زیادہ ووٹنگ کی وجہ بی جے پی کا خوف؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ مرحلوں میں لوگوں نے کثیر تعداد میں ووٹ ڈالے

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران بھارتی وزیراعظم کا لہجہ نہایت جذباتی تھا۔

انھوں نے یہاں کے واحد کرکٹ سٹیڈیم میں موجود لوگوں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’مجھے سیوا (خدمت) کا ایک موقع دیجیے، میں آپ لوگوں کے لیے جان بھی دوں گا۔‘

یہ جملہ بی جے پی کی موجودہ کشمیر پالیسی کا عکاس ہے جہاں ایک اہم نعرہ پارٹی کے ہر عوامی اجتماع میں دوہرایا جاتا ہے: ’دلّی ہوئی ہماری ہے، اب کشمیر کی باری ہے۔‘

ان سب سے صاف ظاہر ہے کہ بی جے پی نے کشمیر کو ’فتح‘ کرنے کا بیڑا اُٹھا رکھا ہے۔

کشمیر کی 87 رکنی اسمبلی میں سے 44 نشستوں پر فتح پانے کے لیے بی جے پی جارحانہ میڈیا مہم چلا رہی ہے۔

یہ مہم اس قدر ہمہ جہتی اور اثرآفریں ہے کہ اکثر حلقوں کو یقین ہوگیا ہے کہ آئندہ حکومت بی جی پی کی قیادت میں بنے گی اور کشمیر کا اگلا وزیراعلی جموں کا کوئی ہندو ہوگا!

Image caption ووٹنگ کی شرح میں اضافے کا مطلب بی جے پی کے لیے چیلنج بھی ہوسکتا ہے

لیکن خود بی جے پی کے رہنما محتاط لہجے میں بات کرتے ہیں۔ وہ نہ کشمیر کے بھارتی وفاق میں مکمل انضمام کا ذکر کرتے ہیں اور نہ اپنے مسلم کش نظریات کی تشہیر کرتے ہیں۔

کشمیر کی 87 میں سے 70 نشستوں پر یہ پارٹی انتخاب لڑ رہی ہے اور اکثر امیدوار مسلمان ہیں۔

کشمیر میں انتخابی مہم کے لیے اس جماعت نے ڈیڑھ سو ایسے مسلمانوں کی خدمات حاصل کیں جو مساجد کے امام و خطیب ہیں اور مختلف مقامات پر دارالعلوم چلاتے ہیں لیکن یہ امیج لوگوں کو لبھانے میں ناکام رہی۔

نئی دہلی میں مبصرین کا ایک غالب حلقہ یہ سمجھتا ہے کہ نریندر مودی بی جے پی کے نظریاتی ارتقا کا باعث بنے ہیں اور یہ جماعت اب اپنے متنازع ماضی سے پیچھا چھڑانے کے لیے اقتدار کی طویل باری کھیلنے کا من بنا چکی ہے۔

تاہم کشمیر میں لوگوں کی سوچ مختلف ہے۔ اکثر حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ بی جے پی کی جارحانہ سیاسی پیش قدمی ہے جس کے باعث ریکارڈ ووٹنگ ہوئی۔ ورنہ صرف چند ماہ قبل پارلیمانی انتخابات کے دوران بائیکاٹ کا نمایاں اثر رہا۔

Image caption ان انتخابات میں بیشتر ایسے چہرے ہیں جو ماضی میں علیحدگی پسند صفوں کی زینت ہوا کرتے تھے

سماجیات کے استاد محمد ناصر کہتے ہیں: ’بی جے پی کی شبیہ خطرناک ہے۔ لوگوں کے دل و دماغ پر گجرات کے فسادات اور ہندو انتہاپسند لیڈروں کے بیانات نقش ہیں۔ جب کوئی کہتا ہے کہ بی جے پی کو روکنا ہے تو ووٹنگ کو حرام سمجھنے والا بھی خودبخود ووٹ ڈالنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی کی حکمت عملی سے یہاں کی مقامی پارٹیوں کو ہی فائدہ ملے گا۔‘

پچھلے 22 سال کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ بھارت میں کسی واحد سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ معنی خیز ہے کہ وہ جماعت بی جے پی ہے اور ایک متنازع شخص اس ملک کا وزیراعظم ہے۔

بی جے پی نے کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے جس انداز اور لب و لہجہ کا مظاہرہ کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ جموں کے ہندواکثریتی خطوں اور لداخ کی بودھ آبادی کے بل پر بی جے پی ایسا سیاسی نظام پروان چڑھانا چاہتی ہے جس میں فیصلہ سازی کا حق کشمیری مسلمانوں سے زیادہ جموں اورلداخ کے غیرمسلم اہل اقتدار کو حاصل ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کہا جاتا ہے کہ بی جے پی نے جنگی جنون کے ساتھ کشمیر کو ’فتح‘ کرنے کا بیڑا اُٹھا رکھا ہے

لیکن اس طرز عمل کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

علیحدگی پسند رہنما اور اسلامک سٹوڈنٹس لیگ کے سربراہ شکیل بخشی کہتے ہیں: ’بی جے پی کشمیر کا مرکز اقتدار سرینگر سے جموں منتقل کرنا چاہتی ہے۔ یہ کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ آپ بائِیکاٹ یا ووٹنگ کا پہلو دیکھتے ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ کشمیری سیاستداں لمبی قطاروں میں کھڑے ان ووٹروں کو کل کیا جواب دیں گے جب ان کا ہر فیصلہ جموں والوں کی نظرعنایت کا محتاج ہوگا۔ اگر لوگ ووٹ ڈالتے ہیں، تو یہ چیلنج علیحدگی پسندوں سے زیادہ ہندنواز کشمیریوں کے لیے ہے؟‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ کشمیر میں انتخابی دھاندلیاں ایک سیاسی کلچر کے طور لوگوں نے قبول کرلی تھیں۔ لیکن اس بار نہ صرف اپوزیشن یا کمزور امیدوار دھاندلیوں یا ووٹ چوری کے خلاف چوکس رہے بلکہ خود بی جے پی بھی نہیں چاہتی کہ انتخابات کے عمل پر کوئی انگلی اُٹھائے۔

تاریخ داں آرزو خان کہتی ہیں: ’لوگوں نے بی جے پی کو اقتدار سے دُور رکھنے کے لئے ایک رسک لیا ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو پوری آبادی بددل ہوجائے گی اور ہندمخالف تحریک کو نیا آکسیجن ملے گا۔‘

Image caption شکیل بخشی کہتے ہیں کہ سنہ 1987 میں علیحدگی پسندوں کے سیاسی اتحاد نے بیشتر نشستیں جیت لیں اور غلط اعلان کے ذریعہ انھیں ناکام قرار دیا گیا۔ اُس غلط اعلان نے کشمیر میں بندوق کو مدعو کیا

قابل ذکر ہے کہ ان انتخابات میں بیشتر ایسے چہرے ہیں جو ماضی میں علیحدگی پسند صفوں کی زینت ہوا کرتے تھے اور اکثر ایسے لوگ ہیں جو علیحدگی پسندوں کے حمایتی تھے اور ان کی مالی مدد کرتے رہے ہیں۔

شکیل بخشی کہتے ہیں: ’حکومت ہند اکثر کہتی ہے کہ علیحدگی پسندی کو چھوڑنے والوں کو بااختیار بنایا جائے گا۔ اس اعلان نے کئی لوگوں کو ہند نواز سیاسی صفوں کی طرف مرغوب کیا ہے۔ لیکن یہ لوگ کل کیا کرینگے جب اصل اختیارات بی جے پی نواز جموں کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔‘

’سنہ 1987 میں علیحدگی پسندوں کے سیاسی اتحاد نے بیشتر نشستیں جیت لیں اور غلط اعلان کے ذریعہ انھیں ناکام قرار دیا گیا۔ اُس غلط اعلان نے کشمیر میں بندوق کو مدعو کیا۔ آج وہی کچھ دوسرے طریقے سے ہورہا ہے۔ ایسا کچھ ہوا تو ردعمل ماضی سے کئی گنا شدید ہوگا۔ بی جے پی کا مشن کشمیر دراصل نئے خطرات کو جنم دے رہا ہے۔‘

اسی بارے میں