حکومتِ پاکستان اعلیٰ عدالت سے رجوع کرے: بھارتی وزیر داخلہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’ممبئی پر حملوں کے ملزمان کے خلاف اسے ٹھوس شواہد فراہم کیے جاچکے ہیں‘

ممبئی حملہ کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی درخواستِ ضمانت منظور کیے جانے پر انڈیا میں سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ضمانت منسوخ کرانے کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کرے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے دہشت گردوں کو حوصلہ ملے گا۔

ادھر حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی دہشت گردی سے لاحق خطرات سے آنکھیں موند رہا ہے۔

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو ذکی الرحمان لکھوی کی ضمانت منسوخ کرانے کے لیے اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنی چاہیے اور یہ کہ ممبئی پر حملوں کے ملزمان کے خلاف اسے ٹھوس شواہد فراہم کیے جاچکے ہیں۔

مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر سیتا رام یچوری نےکہا کہ کہ لکھوی کی رہائی دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو نقصان پہنچائے گی۔

پشاور کے سکول پر حملے کے بعد انڈیا میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر بات کرکے اس حملے کو بربریت سے تعبیر کیا تھا۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’وزیر اعظم نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان کے عوام کے ساتھ ہندوستان کے عوام کوبھی اس سانحے پرصدمہ ہے۔‘

کانگریس کے سینیئر لیڈر راجیو شکلا نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان اور حافظ محمد سعید میں اندر سے کوئی فرق نہیں ہے، اور حکومت پاکستان کو بھی یہ بات سمجھنا چاہیے۔

سابق وفاقی وزیر منیش تیواڑی نے کہاکہ اس فیصلے سے حکومت پاکستان کے سیاسی عزم پربھی سوال اٹھتے ہیں۔

ضمانت کی خبر آنے کے بعد سے کم سے کم ٹی وی چینلوں پر ماحول بدل گیا ہے اور اب وزیر اعظم نواز شریف کے اس اعلان پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ اب اچھے اور خراب طالبان میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی دہری پالیسی اختیار کر رہا ہے اور ذکی الرحمان لکھوی کی ضمانت اس کی ایک مثال ہے۔

بہرحال عدالت کے فیصلے سے پشاور کے بجائے اب توجہ ممبئی پر حملےکے ملزمان پر مرکوز ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں