کشمیر اسمبلی کے انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آخری مرحلے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

بھارت میں اسمبلی انتخابات کے پانچویں اور آخری مرحلے میں بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر میں 20 سیٹوں جبکہ ریاست جھارکھنڈ کی 16 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

آخری مرحلے کے انتخابات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ووٹنگ کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق جموں و کشمیر میں سال 1987 کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالے گئے اور مجموعی طور پر ٹرن آؤٹ 65 فیصد رہا۔

سنیچر کو سردی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد پولنگ سٹیشنز کے باہر جمع تھی۔

اس مرحلے میں جموں کی 11، راجوری کی چار اور كٹھوا کی پانچ نشستیں شامل تھیں۔

پہاڑی ضلع راجوری کی دو اور كٹھوا ضلع کے پہاڑی علاقے بنی کے علاوہ تمام سیٹوں پر ہندو ووٹرز کی اکثریت ہے۔ یہاں مجموعی طور پر دو سو تیرہ امیدوار میدان میں تھے جبکہ رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 18،28،904 ووٹرز تھی اور اس علاقے میں 2366 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے۔

سنہ 2008 کے اسمبلی انتخابات میں ان 20 سیٹوں میں سے بی جے پی کے حصے میں 10 سیٹیں آئیں تھیں جبکہ کانگریس کو پانچ، نیشنل کانفرنس (این سی) کو دو، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو ایک اور آزاد امیدار کو دو سیٹیں ملی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Urmilesh
Image caption بی جے پی ریاست میں حکومت سازی کی دوڑ میں سب سے آگے بتائی جا رہی ہے

بی جے پی کا 44+ یعنی 44 سے زیادہ نششتیں جیتنے کا ہدف بنیادی طور پر انھی 20 سیٹوں پر منحصر ہے۔

جموں سے صحافی بینوں جوشی کا کہنا ہے کہ ہندو اکثریتی علاقوں والی 17 سیٹوں پر مہم کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اثر نظر آیا ہے۔ پوری ریاست میں انھوں نے نو ریلیاں کیں، جن میں سے چار ریلیاں آخری مرحلے میں 20 انتخابی حلقوں کے لیے کی گئیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے 20 سیٹوں پر کئی سٹار پرچار کرنے والوں کو کئی دنوں تک تعینات رکھا جن بی جے پی صدر امت شاہ، مرکزی وزیر ارون جیٹلی، سمرتی ایرانی، نوجوت سنگھ سدھو اور ہیما مالنی وغیرہ شامل رہیں۔

بی جے پی ان 20 میں سے 18 سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Urmilesh
Image caption 20 میں سے 17 سیٹیوں میں ہندو اکثریت میں ہیں

کانگریس کے لیے غلام نبی آزاد نے اس علاقے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے بھی ایک ایک ریلی نکالی تھی۔

این سی کے ایگزیکٹیو صدر اور وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اپنی مہم کے دوران بی جے پی، پی ڈی پی کے ساتھ کانگریس پر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے ساتھ وہ گذشتہ چھ سال سے اتحادی حکومت چلا رہے ہیں۔

پی ڈی پی کے سٹار کمپینر مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی نے بدعنوانی ختم کرنے کے ساتھ ہی کشمیر مسئلے کے حل اور پاکستان کے ساتھ دوستی پر زور دیا۔

جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے پانچویں اور آخری مرحلے میں 16 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے اور الیکشن کمیشن کے مطابق یہ ووٹ ڈالنے کی شرح 70.2 فیصد رہی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ٹرن آؤٹ کی شرح حتمی نہیں ہے اور اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

شہروں کے علاوہ دور داراز کے علاقوں میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پولنگ کا وقت دوپہر تین بجے تک تھا۔

Image caption جھارکھنڈ میں اس مرحلے میں تقریبا 37 لاکھ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے

انتخابات چونکہ ماؤ نواز گروپ سے متاثرہ علاقوں میں ہو رہے تھے اس وجہ سے سکیورٹی کے اضافی اقدامات کیے گیے تھے جبکہ الیکشن کمیشن نے بھی سکیورٹی کے موثر اقدامات کی تعریف کی ہے۔

اس مرحلے میں ریاست کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین اور اسمبلی صدر ششانک شیکھر بھوكتا سمیت کل 208 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں جن میں 16 خواتین امیدوار بھی ہیں۔

ہیمنت سورین دو نشستوں دمکا اور برہیٹ سے الیکشن لڑا۔

اسی بارے میں