’سب کے غم میں ہم اپنا غم بھول جاتے ہیں‘

Image caption سکول نے ان بچوں کو نفسیاتی اور اعصابی مشکلات سے نکالنے کے لیے ماہر نفسیات اور ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں

’میں نے اپنے پاپا کو کبھی نہیں دیکھا۔ جب میں نے بڑی ہونے کے بعد ماں سے پوچھا کہ پاپا کہاں گئے تو انہوں نے بتایا کہ میرے پاپا عسکریت پسند تھے۔ انہیں آرمی نے شہید کر دیا۔‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی نگینہ بھٹ اس وقت پیدا نہیں ہوئی تھیں جب ان کے والد فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ اب وہ 16 برس کی ہیں اور سری نگر کے نواح میں ایک ٹرسٹ کے زیر انتظام گلشن بنات سکول میں زیر تعلیم ہیں۔

اس سکول میں سینکڑوں یتیم بچیاں پڑھتی ہیں اور ان میں بیشتر ایسی ہیں جن کے والدین 25 برس سے زیادہ عرصے سے جاری مسلح علیحدگی پسند تحریک کے دوران مارے گئے ۔

نگینہ کی ہی طرح بیج بہارہ کی کوثر کے والد بھی ہلاک ہوئے تھے۔ باپ کی موت کے بعد گھر کے مشکل حالات کے سبب وہ بھی اپنے گاؤں سے یہاں آ گئیں لیکن ماضی کے پرتشدد واقعات اب بھی ذہن میں تازہ ہیں۔

’پاپا کی موت کے بعد بھی آرمی ہمارے گھر آتی رہتی تھی۔ ایک سال تک وہ کریک ڈاؤن کرتے رہے۔ ماں بولتی تھی کیوں پریشان کرتے ہو ۔ انہوں نے ہمیں بہت تنگ کیا ہے۔‘

جموں کشمیر یتیم ٹرسٹ کے سرپرست اور گلشن بنات اسکول کے پرنسپل ظہور احمد ٹاک ان بچیوں کی پرورش اپنے بچوں کی طرح کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ شورش سے پہلے کشمیر میں صرف ایک چھوٹا سا یتیم خانہ تھا اور آج ریاست کے ہر ضلع میں ہے اور کئی کئی ہیں۔

کشمیر میں مسلح تحریک کے دوران ہزاروں شدت پسندوں سمیت بڑی تعداد میں شہری بھی مارے گئے لیکن اس مسلح تحریک کی سب سے بھاری قیمت کشمیر کے بچوں نے ادا کی ہے۔

ہزاروں شورش زدہ بچے آج کشمیر کے مختلف یتیم خانوں میں پرورش پا رہے ہیں اور ماضی کی پرتشدد یادوں کے ساتھ یہ بچے اب ایک بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

Image caption جموں کشمیر یتیم ٹرسٹ کے سرپرست اور گلشن بنات اسکول کے پرنسپل ظہور احمد ٹاک ان بچیوں کی پرورش اپنے بچوں کی طرح کر رہے ہیں

ظہور ٹاک کہتے ہیں کہ ماضی کے پرتشدد واقعات نے ان بچوں کے ذہن پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے۔ ’جب ہم ایسے بچوں کو یہاں لاتے ہیں تو وہ بہت دنوں تک بات نہیں کرتے، جواب نہیں دیتے۔ ان کے ذہن پر ایک زبردست ٹراما ہوا کرتا ہے۔ وہ ایک عجیب سی اعصابی کیفیت میں ہوتے ہیں۔‘

سکول نے ان بچوں کو نفسیاتی اور اعصابی مشکلات سے نکالنے کے لیے ماہر نفسیات اور ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں۔

سری نگر کے ایک اور یتیم خانے کے سرپرست مظفر جان کہتے ہیں کہ ہم ان بچوں کو گہرے نفسیاتی اثرات سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ’لیکن یہ اثرات انتہائی گہرے ہیں۔یہ بچے اکثر پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ سیاسی حالات کے سبب تشدد کا شکار ہوئے۔‘

کولگام کے 13 سالہ منیب یاسین نے اپنے والد کی ہلاکت کو یاد کرتے ہوئے بتایا ’میرے والد ناگالینڈ میں کام کرتے تھے۔ ہم چھٹیاں منانے گھر آئے تھے۔ رات میں کچھ لوگ گھر پر آئے اور انھیں راستہ بتانے کے لیے کہا اور راستے میں گولی مار دی۔‘

Image caption شورش سے پہلے کشمیر میں صرف ایک چھوٹا سا یتیم خانہ تھا اور آج ریاست کے ہر ضلع میں ہے اور کئی کئی ہیں۔

بارہ مولہ کی کلثوم دلاور بھی اپنے والد کو اکثر یاد کرتی ہیں۔ انھیں دس برس قبل جب کسی نامعلوم شخص نےگولی مار کر ہلاک کیا تھا تو وہ ان کے ساتھ تھیں اور وہ لمحہ ان کے ذہن پر نقش ہے۔

کلثوم گلشن بنات سکول میں پوری محنت سے امتحان کی تیاریوں میں مصروف ہے ۔ یہاں کی دوسری شورش زدہ بچیاں اس کے لیے امید بن گئی ہیں۔ ’جب ہم ساتھ بیٹھتے ہیں تو کبھی کبھی ہم اپنے والدین کے بارے میں باتیں کرتے ہیں لیکن یہاں ہر کسی کی کوئی نہ کوئی ٹریجڈی ہے اور سب کی غمگینی میں ہم اپنا غم بھلا دیتے ہیں۔‘

شورش کے دوران جبر اور خونریز تشدد نے ان بچون کے ذہن پر جو نقش مرتب کیے ہیں وہ شاید کبھی نہیں مٹ سکیں گے اور پھر بھی کشمیر کے انتخابات میں یہ بچے کسی سیاسی جماعت کے انتخابی مشور کا حصہ نہیں۔

اسی بارے میں