بنگلہ دیش: سابق وزیر کو سزائے موت دینے کا حکم

Image caption بنگلہ دیش میں عوامی سطح پر جنگی جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں

بنگلہ دیش میں ایک خصوصی عدالت نے سنہ 1971 میں پاکستان سے آزادی کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر قتل اور ریپ کرنے کے سات الزامات پر سابق وزیر سید محمد قیصر کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔

خصوصی عدالت کے جج عبیدالحسن نے ڈھاکہ میں فیصلہ سناتے ہوئے چار مرتبہ عمر قید کی سزا بھی دی ہے۔

73 سالہ سید محمد قیصر پر الزام تھا کہ انھوں نے قیصر باہنی کے نام سے ایک آزادی مخالف فورس تشکیل دی تھی اور جنگ کے دوران پاکستانی فوج کی مدد کی تھی۔

محمد قیصر بنگلہ دیش کے سابق فوجی آمر محمد ارشاد کی حکومت میں زراعت کے وزیرِ مملکت رہ چکے ہیں اور وہ سزا سننے کے لیے منگل کو کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔

استغاثہ نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ قیصر کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے۔

بنگلہ دیش میں سنہ 2010 سے دو مختلف ٹرائبیونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔

ان عدالتوں کی تشکیل وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔

2010 سے اب تک ان عدالتوں نے 13 افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حزبِ اختلاف کی پارٹی جماعتِ اسلامی ہے جو کہ بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالف رہی تھی۔

جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

ان عدالتی کارروائیوں کے ناقدین کا بھی یہی کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریقۂ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

دوسری جانب برسرِ اقتدار جماعت ’عوامی لیگ‘ کا کہنا ہے کہ ملک کے ماضی کو دفن کرنے کے لیے جنگی جرائم کی تفتیش ضروری ہے۔

سنہ 1971 میں نو ماہ تک جاری رہنے والی پاکستان سے علیحدگی کی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 30 لاکھ افراد مارے گئے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ تعداد حقیقت سے بہت زیادہ ہے اور نہ ہی ان اعداد و شمار کی کوئی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

حال ہی میں بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے انعام یافتہ برطانوی صحافی ڈیوڈ برگمین کو اس جنگ میں مرنے والوں کے سرکاری اعداد و شمار پر سوال اٹھانے پر توہینِ عدالت کا مجرم قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں