کشمیر میں کون کس کے ساتھ اتحاد کرے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Urmilesh
Image caption کشمیر میں ہندو ووٹ مستحکم ہوکر بی جے پی کی جھولی میں گیا ہے جبکہ مسلم ووٹ تقسیم در تقسیم ہوکر پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس اور آزاد امیدواروں کے درمیان بٹ کے رہ گیا ہے

کشمیر میں انتخابات کے غیریقینی نتائج سے مختلف سیاسی گروپوں کے درمیان اقتدار کی جنگ چھڑ گئی ہے۔ کشمیر کی اسمبلی میں کُل ستاسی نشستیں ہیں اور اکثریت کے لئے چوالیس کا عدد ضروری ہوتا ہے۔

حالیہ انتخابات میں پی ڈی پی کو سب سے زیادہ یعنی اٹھائیس سیٹیں ملی ہیں اور جموں خطے کی سینتیس میں سے پچیس سیٹوں پر ہندوقوم پرست جماعت کو جیت حاصل ہوئی ہے۔ ایک پیچیدہ مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ کشمیر میں ہندو ووٹ مستحکم ہوکر بی جے پی کی جھولی میں گیا ہے جبکہ مسلم ووٹ تقسیم در تقسیم ہوکر پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس اور آزاد امیدواروں کے درمیان بٹ کے رہ گیا ہے۔

یہ ایسی صورتحال ہے جس میں اقتدار کے تین جوڑے اُبھرتے ہیں۔ ان میں سرفہرست بی جے پی اور پی ڈی پی ہے۔

ان دونوں کے پاس تینتالیس نشستیں ہیں اور ایک سیٹ کی حمایت بالکل مکمن ہے کیونکہ بی جے پی کو دیگر کئی ممبران کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن حکومت سازی میں تاخیر کی وجہ سیٹوں کا اعدادوشمار نہیں بلکہ بی جے پی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے متضاد سیاسی نظریات ہیں۔

بی جے پی کشمیر پر ہندو اقتدار کی بحالی، کشمیر کا بھارتی وفاق میں مکمل ادغام اور دوسرے مسلم مخالف منصوبوں کا اعلان کرچکی ہے، جبکہ پی ڈی پی بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات، کشمیر میں خودحکمرانی، علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت اور نئی دہلی کی محدود مداخلت کی حامی ہے۔

اگر پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اقتدار کا کوئی معاہدہ کرلیا تو یہ براہ راست نیشنل کانفرنس کی اخلاقی جیت ہوگی، جس پر مفتی سعید آمادہ نہیں ہیں۔

دوسرا آپشن بی جے پی اور نیشنل کانفرنس ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمرعبداللہ پہلے ہی بی جے پی کے نظریات کی وجہ سے اس پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کے کسی بھی معاہدے کو خارج از امکان قرار دے چکے ہیں

دونوں کی کل ملاکر سینتیس سیٹیں ملی ہیں۔ عمرعبداللہ کو اپنی سیٹوں کے علاوہ دیگر چار امیدواروں کی حمایت حاصل ہے، لہٰذا دونوں کو چوالیس سیٹوں کا مطلوب عدد حاصل ہوجائے گا۔

لیکن عمرعبداللہ پہلے ہی بی جے پی کے نظریات کی وجہ سے اس پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کے کسی بھی معاہدے کو خارج از امکان قرار دے چکے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں بی جے پی کے ساتھ مشترکہ حکومت کرنے کے عوض اٹھائیس ممبران کی اپوزیشن کو جھیلنا مشکل ہوگا۔

تیسری آپشن پی ڈی پی کی اٹھائیس اور کانگریس کی بارہ نشستوں کو جوڑ کر چالیس کا عدد بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پی ڈی پی اور کانگریس مشترکہ اقتدار پر آمادہ ہوجائے تو انہیں چار ممبران کی حمایت مطلوب ہوگی۔

واضح رہے سابق علیحدگی پسند سجاد غنی لون کے پاس دو ممبران ہیں جبکہ پانچ دیگر آزاد امیدوار ہیں۔ کُل ملاکر ان سات ممبران میں سے بی جے پی کو دو اور نیشنل کانفرنس کو دو ممبران کی حمایت پہلے ہی حاصل ہے۔ وہاں صرف سجاد لون کے دو اور انجنیئر رشید بچتے ہیں۔ ان تینوں کو ملا کر بھی پی ڈی پی اور کانگریس کو ایک رکن اسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

پی ڈی پی کے ایک رہنما نے بتایا ’ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ محض ایک ممبر کا مزاج بگڑ گیا تو حکومت گرجائے۔‘ انہوں نے 1999 کا حوالہ دیا جب بھارتی پارلیمنٹ میں صرف ایک ممبر سیف الدین سوز نے بی جے پی کی حکومت کے خلاف ووٹ دے کر حکومت گرادی۔

اب سوال یہ ہے کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کیا کریں گے؟

Image caption 1999 کا حوالہ دیا جب بھارتی پارلیمنٹ میں صرف ایک ممبر سیف الدین سوز نے بی جے پی کی حکومت کے خلاف ووٹ دے کر حکومت گرادی

بی جے پی نے ارون جیٹلی اور دوسرے رہنماوں پر مشتمل مبصرین کا گروپ بنایا ہے جو عنقریب کشمیر کا دورہ کرے گا۔ اس کا مطلب ہے بی جے پی اس بار کشمیر کے اقتدار پر کسی بھی قیمت پر قضبہ چاہتی ہے۔

لیکن اس کے لیے اسے پی ڈی پی یا نیشنل کانفرنس کی حمایت ناگزیر ہے، جو بظاہر ناممکن ہے۔ ایسے میں یہاں کے عوامی حلقے کہتے ہیں کہ کشمیر کی علاقائی جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی چاہیں تو مشترکہ حکومت بناسکتی ہیں۔ کیونکہ دونوں نئی دہلی کی محدود مداخلت کی حامی ہیں اور دونوں مسئلہ کشمیر کا حل چاہتی ہیں اور کشمیریوں کے مفاد کی باتیں کرتی ہیں۔

اس عوامی تاثر کو بھانپتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے سربراہ عمرعبداللہ نے نتائج سامنے آنے کے فوراً بعد عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا اور گورنر کی طرف سے حکومت سازی تک عہدے پر قائم رہنے کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ’حکومت بنانا اب بی جے پی یا پی ڈی پی کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے ذمے یہ نہیں کہ ہم دوسروں کا کام آسان کردیں۔‘

لیکن انہوں نے ساتھ ہی پی ڈی پی کو رسمی طور حمایت کی پیشکش کردی اور کہا کہ اگر بہار کے لالوپرساد اور نتیش کمار ایک ساتھ کام کرسکتے ہیں ہم کیوں نہیں؟

مبصرین کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے روایتی حریف مفتی سعید کو نفسیاتی الجھن میں ڈال دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ موجودہ اسمبلی کی معیاد اٹھائیس دسمبر کو ختم ہورہی ہے اور پانچ جنوری سے پہلے نئی حکومت کی حلف برداری ہونا ایک آئینی ضرورت ہے۔ اگر کوئی بھی پارٹی حکومت سازی کی اہل نہ ہوسکی تو کشمیر میں چھ ماہ کے لیے گورنر راج ہوسکتا ہے اور بعد ازاں دوبارہ انتخابات کا اعلان ہوگا۔

اسی بارے میں