آذربائیجان:امریکی امداد سے چلنےوالے ریڈیو سٹیشن پر چھاپہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آذربائیجان کی حکومت نےانسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں پر گھیرا تنگ کر رکھا ہے

آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں پولیس نے امریکی امداد سے چلنے والے ریڈیو شیٹشن آزادلق پر چھاپہ مارا ہے اور ریڈیو کو بند کر دیا ہے۔

ایک حکومتی اہلکار نے کہا ہے کہ ریڈیو سیٹیشن پر چھاپہ ایک ’سنگین جرم‘ کی تفتیش کے سلسلے میں مارا گیا ہے۔

ریڈیو فری یورپ ، ریڈیو لبرٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح پولیس اہلکاروں نے آذربائیجانی ریڈیو آزادلق دفتر پر چھاپہ مارا اور صحافیوں کو بلڈنگ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

ریڈیو سٹیشن پر چھاپہ ایسے وقت میں مارا گیا ہے جب آذربائیجانی حکومت صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر گھیرا تنگ کر رہی ہے۔ پولیس ریڈیو آزادلق کی ایک تحقیقاتی خاتون رپورٹر خدیجہ اسماعیلوف کو حراست میں لے رکھا ہے۔

ریڈیو آزادلق کے ڈائریکٹر سٹیشن نےخبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا ہے کہ مسلح پولیس نے جعمہ کے روز ریڈیو شٹیشن کو بند کر دیا ہے۔ ’ہمارے آلات اور کمپیوٹروں کو ضبط کیا جا رہا ہے اور ہمارے صحافیوں کو دفتر سے نکل جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘

ریڈیو فری یورپ کی جانب سے ایک ویڈیو کو ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا ہے جس میں پولیس اہلکاروں اور سرکاری وکلا کو فائلوں اور فولڈروں کو اپنے قبضے میں لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ ریڈیو سٹیشن پر ایک ’سنگین جرم‘ کی تفتیش کے سلسلے میں چھاپہ مارا گیا ہے۔ البتہ پراسیکیوٹر نے ’سنگین جرم‘ کے بارے میں معلومات دینے سے انکار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption خدیجہ اسماعیلوف پر الزام ہے کہ وہ اپنے ریڈیو پروگراموں میں لوگوں کو خودکشی پر مائل کرتی تھیں

آذربائیجانی صدر الہام علیوف کے ترجمان نے ریڈیو آزادلق کی رپورٹر کی گرفتاری کے وقت الزام عائد کیا تھا کہ ریڈیو سٹیشن ایک غیر ملکی سیکرٹ سروس کے لیے کام کر رہا ہے۔ ۔ آذربائیجانی پولیس نے ریڈیو آزادلق کی تحقیقاتی رپورٹر خدیجہ اسماعیلوف کو دسمبر کے اوئل میں گرفتار کیا تھا اور وہ اب بھی پولیس کی تحویل میں ہیں۔ خدیجہ اسماعیلوف کے خلاف ابھی تک کوئی باضابطہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔

خدیجہ اسماعیلوف پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے ریڈیو پروگراموں میں لوگوں کو خود کشی کرنے کی ترغیب دیتی تھیں۔

حالیہ مہینوں میں آذربائیجانی حکومت پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر دباؤ ڈالنےکے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

صدر الہام علیوف 2013 میں تیسری بار صدر منتخب ہوئے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ان کے انتخاب کو غیر جمہوری اور مکمل فراڈ قرار دیا تھا۔