تین بچے کھوئے، 30 پا لیے

تصویر کے کاپی رائٹ GURINDER OSAN
Image caption سونامی کے دس برس بعد یہ دونوں اپنے دو بچوں کے علاوہ کئی دوسرے بچوں کی پرورش کرتے ہیں

بھارتی ریاست تمل ناڈو کے باسی کریبیران پرامیسوران 26 دسمبر کا دن کبھی نہیں بھول سکتے، یہ ان کی سالگرہ کا دن ہے لیکن وہ پچھلے دس برس سے یہ دن نہیں مناتے۔

سنہ 2004 کی صبح آٹھ بجے وہ اور ان کے خاندان نے دس دیگر افراد اپنے گھر سے 600 میٹر دور ناگاپٹینم کے ساحل پر گئے۔ اس کے بچے بیٹیاں سالہ 12 سالہ رخشنیہ، نو برس کی کورائنہ، اور پانچ سالہ کیروباسن سبھی کو ساحل پر کھیلنا پسند تھا۔

پرامیسوران اپنے بیٹے کی جانب فرزبی پھینک رہے تھے جب انھوں نے اپنے بیٹے کیروباسن کے چہرے پر دہشت دیکھی۔ جب انھوں نے پلٹ کر دیکھا تو کجھور کے درخت سے دو گنا اونچی پانی کی لہریں ان کے بچوں کی جانب آ رہی تھی۔

یہ وہ لمحہ ہے جس میں وہ قید ہو گئے ہیں۔۔۔ آگے کیا ہُوا یہ بتاتے ہوئے ان کی آواز رندھ جاتی ہے۔

’میں اپنے بیٹے کی طرف لپکا، میں جتنی دیر اس کا بازو تھامے رکھ سکتا تھا، میں نے تھامے رکھا، لیکن لہریں بہت زور آور تھیں اور وہ میرے ہاتھوں سے پھسل گیا۔‘

پرامیسوران ایک لمحے کو رکے اور پھر بولے: ’میں ناکام ہو گیا، باپ ہونے کے ناطے مجھے اپنے بچے کی حفاظت کرنا چاہیے تھی، لیکن میں ایسا نہیں کر سکا۔‘

پرامیسوران لہروں کے زور پر بہتے ہوئے اپنے خاندان سے دور چلے گئے۔ انھوں نے سوچا کے وہ مرنے والے ہیں لیکن وہ کسی طرح پانچ منٹ تک کھجور کے ایک درخت سے چپکے رہنے میں کامیاب رہے اور بچ گئے۔

پھر وہ بچوں کو دیکھنے کے لیے اپنے گھر کی طرف بھاگے۔ ان کی اہلیہ چُرامانی جو ان کی سالگرہ کے لیے کھانا بنا رہی تھیں اس نے بتایا کہ بچوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

Image caption پرامیسوران کے تینوں بچے سونامی میں ہلاک ہو گئے تھے

وہ واپس ساحل کی طرح بھاگے تاکہ وہاں بچوں کو تلاش کر سکیں۔ راستے میں ریل کی پٹری پر انھیں اپنی بڑی بیٹی رخشنیہ کی لاش ملی جو چند گھنٹے پہلے چائے کا کپ دیتے ہوئے انھیں سالگرہ کی مبارکباد دے رہی تھی۔ وہ اس کی لاش لے کر گھر آ گئے۔

اگلے چند گھنٹوں میں وہ اپنی دوسری بیٹی اور بیٹے کی لاش بھی گھر لے آئے۔

اس روز ساحل پر جانے والے 11 افراد میں سے وہ زندہ بچ جانے والے واحد انسان تھے۔ ان میں سے کئی کی لاشیں بھی نہیں ملیں۔

اس رات پرامیسوران اور ان کی اہلیہ نے بچوں کو دفنایا۔ وہ بتاتے ہیں: ’یہ وہ چیز ہے جو کوئی بھی والدین کبھی نہیں کرنا چاہیں گے۔‘

وہ سب کی الگ الگ قبریں بناتا چاہتے تھیں لیکن ان میں اتنی ہمت نہیں تھی اس لیے انھوں نے تینوں کو ایک ساتھ دفنا دیا۔

وہ خود بھی ان بچوں کے ساتھ دفن ہو جاتا چاہتے تھے اور چند روز بعد انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ انھیں زہر لا دے۔

ان کی آنکھوں نے سامنے ایک ہی منظر تھا جب ان کا بیٹا ان کے ہاتھوں سے پھسل رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ’سمندر میرے تینوں بچے لے گیا اور میں اب بھی زندہ ہوں؟‘

لیکن دس برس گزرنے کے بعد بھی وہ وہیں ہیں۔ ان کے اپنے دو مزید بچے ہیں لیکن وہ ان کے علاوہ کئی دوسرے بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ جس طرح وہ خود بچ گئے اب وہ دوسرے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

جس علاقےمیں وہ رہتے ہیں وہاں کم سے کم 60 بچوں کے والدین نہیں رہے جس پر ان کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ انھیں ان بچوں کی مدد کرنی چاہیے۔

پہلے تو انھوں نے چار بچوں کو گود لیا جن میں تین لڑکیوں اور ایک لڑکا شامل تھے، لیکن اب ان کے پاس 30 بچے رہتے ہیں اور ان کے گھر کا نام ’نمبیکّی‘ (امید کے ہاتھ) رکھا گیا ہے۔

یہ گھر قہقہوں اور زندگی سے بھر پور ہے۔ بچوں میں گھری چُرامانی کہتی ہیں: ’لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے بچوں کی مدد کی لیکن در حقیقت انھوں نے ہماری مدد کی۔ یہ نہ ہوتے تو جو کچھ ہوا ہم ایک دوسرے کو اس کے لیے الزام دیتے رہتے۔‘

پرامیسوران نے پھر تائید میں سر ہلایا: ’ان دس برسوں میں میں نے خود کو مصروف رکھا ورنہ مجھے اپنے ہاتھوں سے پھلستا ہوا بیٹا دکھائی دیتا رہتا۔ ان بچوں نے میرے جان بچائی ہیں میں نے انھیں نہیں بچایا۔‘

کچھ بچے یہاں سے جا بھی چکے ہیں۔ ونود جس کے دادا، چچا اور والد سونامی میں ہلاک ہوئے تھے، اب انجینیئر بن چکا ہے۔ سونامی کے بعد ابتدائی برسوں میں اسے ڈراؤنے خواب آتے تھے۔ وہ سمندر کی جانب نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے اور دوسرے بچوں نے اس بارے میں باتیں کیں کہ کس نے کیا کھویا اور کیوں، لیکن کیوں کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔

ونود نے بتایا: ’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے ایک دوسرے سے ہمت حاصل کی اور اس بات کا احساس ہوا کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو مقصد دینا ہے۔ اور یہ انھیں یاد رکھنے کا بہترین طریقہ ہے جنھیں ہم نے کھویا ہے۔‘

اس برس بھی 26 دسمبر کو پرامیسوران اور ان کے بچے ان کی سالگرہ نہیں منائیں گے بلکہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھیں سمندر اپنے ساتھ بہا لے گیا تھا اور وہ ایک بار پھر اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے پھسلتا ہوا دیکھیں گے۔

اسی بارے میں