’لو جہاد‘، ’گھر واپسی‘ کے بعد ’بہو لاؤ، بیٹی بچاؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں فی الحال پمفلٹ اور بل بورڈز کے ذریعے تحریک کے بارے میں بیداری پیدا کی جائے گی

بھارت میں وشو ہندو پریشد کی نوجوان بجرنگ دل ’لّو جہاد‘ کو اب ایک نیا رنگ دینے کی تیاری میں ہے۔

’لو جہاد‘ اور ’گھر واپسی‘ کے بعد بجرنگ دل اب ’بہو لاؤ، بیٹی بچاؤ‘ کے نام سے ایک نئی تحریک شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

بجرنگ دل کے برج صوبے کے شریک کنوینر اجج چوہان نے بی بی سی کو بتایا ’ہندو معاشرے میں بہت بنیاد پرستی ہے۔ اس تحریک کے ذریعے دوسرے مذاہب کی جو لڑکیاں ہندو لڑکوں سے شادی کریں گی انھیں پوری عزت دی جائے گی۔ ساتھ ہی دونوں کی حفاظت بھی کی جائے گی۔‘

’بہو لاؤ، بیٹی بچاؤ‘ تحریک کے تحت جو ماں باپ عیسائی یا مسلم کمیونٹی کی لڑکیوں کو اپنی بہو بنانے کی مخالفت کریں گے انہیں بھی سمجھانے کی کوشش کی جائے گی۔

چوہان کے مطابق لبرل ذہنیت والے، پڑھے لکھے مسلمان اب ہندوؤں سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ بجرنگ دل کی یہ تحریک ’لو جہاد‘ کا جواب ہوگی۔

چوہان کے مطابق ’لو جہاد‘ كے خلاف تحریک چلتی رہے گی اور ہندو لڑکیوں کو اس کے بارے میں آگاہ کرنے کا کام بھی جاری رہے گا۔

اس گولڈن جوبلی سال میں ہوئے ہندو اجلاس میں اس موضوع پر بحث کی جا چکی ہے۔

چوہان نے بتایا کہ وشو ہندو پریشد کےگولڈن جوبلی سال کے سبب اس تحریک کو ابھی شروع نہیں کیا جا رہا۔ اس کی شروعات آئندہ فروری سے کی جائے گی۔

فی الحال پمفلٹ اور بل بورڈز کے ذریعے تحریک کے بارے میں بیداری پیدا کی جائے گی۔

اسی بارے میں