’امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا ذمہ دارانہ اختتام‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کے جنگی مشن کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے۔

اتوار کو نیٹو افوج نے افغان دارالحکومت کابل میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران باضابطہ طور پر ملک کی سکیورٹی افغان فورسز کے حوالے کر دی تھی۔

صدر اوباما کے ایک بیان کے مطابق افغانستان میں 13 سالہ جنگی مشن کے دوران امریکی افواج نے غیر معمولی قربانیاں دی ہیں اور امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا ایک ذمہ دار اختتام ہوا ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نیٹو کے 13 سالہ مشن کی کامیابی کے حوالے سے کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جنز سٹالٹنبرگ نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کی سکیورٹی کی ذمہ داری اب ساڑھے تین لاکھ افغان فوجیوں اور پولیس کے ہاتھ میں ہوگی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مشترکہ طور پر افغان فورسز کی تربیت، مدد اور راہنمائی کے لیے موجو رہے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیٹو کے 13 سالہ مشن کی کامیابی کے حوالے سے کئی سوال اٹھ رہے ہیں

افغانستان میں نیٹو مشن کے کمانڈر جنرل جان کیمبل کا کہنا ہے کہ نیٹو نے افغان عوام کو اندھیروں سے نکال کر انھیں ایک روشن مستقبل کی امید دی ہے۔

یکم جنوری سے افغانستان میں نیٹو اور اس کے اتحادی ممالک کا کردار افغان افواج کی تربیت اور مدد تک محدود ہو جائے گا۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق تقریباً ایک دہائی قبل شروع کی گئی نیٹو کی طویل المدت اور مہنگی لڑائی کی باوجود طالبان نہ صرف خاصے سرگرم ہیں بلکہ حالیہ مہینوں میں ان کی قوت اور حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

افغان مشن کے آغاز سے اختتام تک افغانستان میں 3500 غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

سنہ دو ہزار ایک کے بعد رواں سال افغان فوج کے لیے سب سے زیادہ خونریز ثابت ہوا اور طالبان کے حملوں میں افغان سکیورٹی فورسز کے 4600 ممبران ہلاک ہوئے۔رواں سال 2003 کے بعد سب سے زیادہ شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال مستقبل میں افغان سکیورٹی فورسز کو درپیش چیلینج کے مشکل اور پیچیدہ ہونے کا احساس دلاتی ہے۔

افغانستان کی سکیورٹی افغان فورسز کے حوالے کرنے کی تقریب ایک جمنیزیئم میں ہوئی۔ نیٹو مشن کا جھنڈا افغانستان اور نیٹو کے اعلیٰ فوجی افسران کی موجودگی میں اتارا گیا۔

تاہم اس مشن کے اختتام کے باوجود امریکی فوج کا ایک دستہ افغان سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد کرے گا۔

اسی بارے میں