بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے خلاف تمام الزامات خارج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت میں سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے حکمراں بی جے پی کے صدر اور وزیر اعظم کے قریبی معتمد امت شاہ کے خلاف فرضی مقابلے کے ایک کیس میں تمام الزامات خارج کر دیے ہیں۔

حکمراں بی جے پی کے لیے یہ اہم پیش رفت ہے کیونکہ اب تک اس کے صدر کو فرضی مقابلے کی سازش میں شامل ہونے کے الزام کا سامنا تھا۔

گجرات پولیس کا الزام تھا کہ سہراب الدین کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔ مقابلے کے چند ہی دنوں بعد ان کی اہلیہ کوثر بی بی کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا لیکن جب یہ الزمات سامنے آئے کہ یہ مقابلہ فرضی تھا اور مقتولین پہلے سے ہی پولیس کی تحویل میں تھے تو کیس کی تفتیش سی بی آئی کو سونپ دی گئی تھی۔

اس وقت یہ الزامات بھی سامنے آئے تھے کہ سہراب الدین کا تعلق جرائم پیشہ دنیا سے تھا اور وہ کچھ سیاسی رہنماؤں سے مل کر تاجروں سے جبراً رقم وصول کر رہے تھے۔

امت شاہ ان دنوں گجرات کے وزیر داخلہ تھے لیکن جب سی بی آئی نے سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر کیس میں انھیں ملزم بنایا تو انھیں مستعفی ہونا پڑا تھا۔

امت شاہ کا موقف تھا کہ انھیں سیاسی رقابت کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

خصوصی جج ایم بی گوساوی نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ’میرے خیال میں (تفتیش کی بنیاد پر) سی بی آئی نے جو نتائج اخذ کیے ہیں انھیں پوری طرح تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور شاہ کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔‘

سماعت کے دوران سی بی آئی کے وکیل نے کہا کہ سی بی آئی کو اس کیس کی تفتیش سنہ 2010 میں سونپی گئی تھی حالانکہ یہ انکاؤنٹر اس سے پانچ سال پہلے ہوا تھا۔

امت شاہ کے وکیل نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی براہ راست شواہد نہیں ہیں۔ ان کے مطابق سی بی آئی نے کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ امت شاہ کسی بھی دوسرے ملزم سے ملے تھے یا صرف اس کیس میں ملزم بنائے جانے والے پولیس افسران سے ہی رابطے میں تھے۔

اس کیس میں گجرات کے کئی اعلی پولیس افسران برسوں سے جیل میں ہیں۔

سی بی آئی نے امت شاہ کے ٹیلی فون ریکارڈ کی بنیاد پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ پہلے سہراب الدین اور پھر ان کے ساتھی تلسی رام پرجاپتی کو جب پولیس نے مقابلوں میں ہلاک کیا تو اس دوران امت شاہ ان مقابلوں میں حصہ لینے والے سینیئر پولیس افسران سے رابطے میں تھے۔

الزام یہ تھا کہ پرجاپتی سہراب الدین کے ساتھی تھے اور ان کی موجودگی میں سہراب الدین کو پولیس نے اغوا کیا تھا۔

اس سے پہلے سی بی آئی نے پارلیمانی انتخابات کے دوران گجرات کی ایک خصوصی عدالت کو بتایا تھا کہ عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس میں اسے امت شاہ کے خلاف ایسے ٹھوس شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر ان پر مقدمہ چلایا جاسکے۔

یہ واقعہ جون سنہ 2004 کا ہے جب گجرات پولیس کی کرائم برانچ نے 19 سالہ عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کو دہشت گرد بتاتے ہوئے انھیں ایک مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ عشرت جہاں کا تعلق ممبئی سے تھا جہاں وہ ایک کالج میں زیر تعلیم تھیں۔

پولیس کا دعوی تھا کہ یہ لوگ ریاست کے وزیر اعلی نریندر مودی کو ہلاک کرنے کے ارادے سے گجرات آئے تھے اور ان کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا لیکن الزام یہ ہے کہ یہ مقابلہ بھی فرضی تھا اور اس سلسلےمیں ریاست کے کئی سینئر پولیس افسران جیل میں ہیں۔

اس کیس میں انٹیلی جنس بیورو کے ایک سابق افسر راجندر کمار بھی شک کے دائرے میں ہیں۔ ان پر اس مقابلے کی سازش رچنے کا الزام ہے۔

سہراب الدین انکاؤنٹر کیس میں امت شاہ ضمانت پر رہا ہیں۔ انھیں 25 جولائی سنہ 2010 کو گرفتار کیا گیا تھا اور انھوں نے تین مہینے جیل میں گزارے تھے۔ سپریم کورٹ نے ان پر گجرات کے بجائے ممبئی میں مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ انصاف کے عمل کو متاثر نہ کرسکیں۔

اسی بارے میں