بھارت: پولیس کی’مسلمان دہشتگردوں‘ سے نمٹنے کی مشقیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گجرات کے وزیر اعلی آنندی بن پٹیل نے اعتراف کیا کہ یہ مشق ایک غلطی تھی۔

بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں پولیس کی فرضی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے ایسے دو ویڈیو منظر عام پر آئے ہیں جن میں دہشت گردوں کو مسلمانوں کے بھیس میں پیش کیا گیا ہے۔

مسلمانوں کو اس انداز میں دہشت گردی سے جوڑے جانے پر سبھی سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اہلکار کمال فاروقی نے کہا کہ ریاستی حکومت کو معافی مانگنا چاہیے جبکہ ریاست میں بی جے پی کے اقلیتی سیل کے سربراہ محبوب چشتی نے کہا کہ ’اصل دہشت گرد‘ بھی ٹوپیاں پہن کر نہیں آتے۔

ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ گذشتہ مئی میں وزیراعظم منتخب ہونے سے قبل نریندر مودی ہی گجرات کے وزیر اعلی تھےاور اب یہ ذمہ داری ان کی قریبی ساتھی آنندی پٹیل نے سنبھال رکھی ہے۔

تازہ ترین ویڈیو گذشتہ ہفتے نرمدا ضلع میں کی جانے والی ایک مشق کی ہے جس میں پولیس مختصر مقابلے کے بعد دو فرضی دہشت گردوں کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور انھیں یہ نعرے بلند کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’چاہو تو ہمیں مار ڈالو۔۔۔۔ اسلام زندہ باد۔‘

اس سے پہلے بدھ کے روز ریاست کے سورت ضلع میں بنائی جانے والی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں تین ’دہشتگردوں‘ نے اس طرح کی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں جیسی عام طور پر مسلمان پہنتے ہیں۔ یہ بھی ایک مشق تھی اور دہشت گردوں کا کردار پولیس والے ہی نبھا رہے تھے۔

مقامی پولیس نے پھر غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا ہے اور ضلع کے پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ ’ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘

اس واقعہ پر ریاست کی وزیراعلیٰ آنندی بین نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنا غلط ہے اور پولیس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انڈیا میں پولیس پر اکثر مذہب کی بنیاد پر تعصب کا الزام لگایا جاتا ہے اور خود حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔

2013 میں خود وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ملک کے اعلیٰ پولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اقلیتوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

گجرات میں2002 کے مذہبی فسادات کے بعد پولیس نے کئی مقابلوں میں مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا جن کے بارے میں اس کا الزام تھا کہ انہیں وزیراعلی نریندر مودی کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

لیکن الزام ہے کہ یہ مقابلہ فرضی تھا اور اس سلسلے میں ریاستی پولیس کے کئی اعلیٰ افسران اور خود وزیر داِخلہ امت شاہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

امت شاہ اب بی جے پی کے صدر ہیں اور ایک خصوصی عدالت نے ان کے خلاف تمام الزامات ِخارج کر دیے ہیں۔ لیکن پولیس افسران کے خلاف فرضی انکاؤنٹر کیس کی سماعت بدستور جاری ہے۔

گجرات میں جلدی ہی دو بڑے اجلاس ہونے والے ہیں جن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری اور بیرون ملک آبادی ہندوستانی حصہ لیں گے اور پولیس ان ہیں تقریبات کی تیاری کے لیے یہ مشقیں کر رہی ہے۔

اسی بارے میں