بھارت: جاپانی طالبہ سے ریپ کے الزام میں گرفتاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کے مطابق ایک منظم گروہ خواتین کو نشانہ بنا رہا ہے

بھارت میں جاپان کی ایک طالبہ کو اغوا کرنے اور ایک ماہ تک گینگ ریپ کرنے کے الزام میں پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

حراست میں لیے جانے والے افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے 22 سالہ جاپانی خاتون کو ایک مہینے سے زیادہ کے عرصے تک اپنی تحویل میں رکھا اور اس دوران مختلف مقامات پر ان کے ساتھ ریپ کیا۔

ملزمان میں دو بھائی بھی شامل ہیں اور انھیں کلکتہ سےگرفتار کیا گیا تھا جبکہ دیگر تین کو سیاحت کے لیے مشہور شہر ’بودھ گیا‘سے گرفتار کیا گیا۔

جاپانی طالبہ گذشتہ سال 20 نومبر کو کلکتہ پہنچی تھیں جہاں پر دو ملزمان نے اس سے اپنے آپ کو سیاحوں کے گائیڈ کے طور پر متعارف کرایا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو سیاحت کے بہانے پہلے ایک ساحلی تفریح مقام پر لے جایا گیا جہاں انھیں لوٹنے کے بعد ریپ کیا گیا۔

حکام کے مطابق پھر متاثرہ خاتون کو ایک ماہ تک ’بودھ گیا‘ میں محبوس رکھا گیا جہں دیگر ملزمان بھی اس کو جنسی ذیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔

بھارت میں اس سے پہلے بھی غیر ملکی خاتون سیاحوں کو ریپ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے اور کئی مغربی ممالک بھارت جانے والے اپنی خاتون شہریوں کو ریپ کے واقعات کے تناظر میں احتیاط برتنے کی ہدایت بھی کرتے ہیں۔

ایک دن پہلے ہی جمعے کو بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں پولیس اہلکاروں کو ایک 14 سالہ لڑکی کو اغوا کر کے تھانے میں اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں معطل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ دو سال قبل دہلی میں ایک لڑکی کو بس میں ریپ کرنے کے بعد ہلاک کرنے کے واقع پر ملک میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا ارو اس واقعے کے خلاف دہلی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں کئی روز تک احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو کڑی سزائیں دی جائیں۔

گذشتہ ماہ ہی دہلی کی انتظامیہ نے ٹیکسی کی بکنگ کی بین الاقوامی سروس ’اُوبر‘ پر اس وقت پابندی لگا دی تھی جب اس ٹیکسی سروس کے ایک ڈرائیور پر ایک خاتون مسافر کے ساتھ ریپ کا الزام سامنے آیا تھا۔

اسی بارے میں