کشمیر: سرحدوں پر پھر تناؤ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے ساتھ 740 کلومیٹر لمبی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر اکثر کشیدگی ہوتی رہتی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انتخابات کے نتائج غیر یقینی تھے لیکن حکومت سازی میں تاخیر کے بیچ سرحدوں پر تناؤ کے باعث خطے میں ایک بار پھر کشیدگی کا ماحول ہے۔

دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان گذشتہ کئی روز سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں اب تک پاکستان کی جانب دو اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا جبکہ بھارت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک 14 سالہ لڑکی اور تین فوجی مارے گئے۔

بھارتی کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل فائرنگ کے پیش نظرجموں کے سرحدی خطوں میں رہائش پذیر شہریوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر اور نومبر میں بھی سرحدی خطوں میں فائرنگ کے تبادلے کی وجہ سے تناؤ رہا جس کے باعث ہزاروں لوگوں کو گھر چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں رہنا پڑا۔ سرحدوں پر تناؤ کی وجہ سے بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو بھی معطل کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ممالک کی فورسز ایک دوسرے پر پہل کرنے کا الزام عائد کرتی ہیں

پاکستان نے فائرنگ کے حالیہ واقعات کے بعد اسلام آباد میں بھارتی سفارتخانہ میں رسمی احتجاج بھی درج کرایا ہے اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کےمشیر برائے سلامتی سرتاج عزیز نے بھارتی حکام کو ایک خط کے ذریعہ ’بھارتی جارحیت‘ سے آگاہ کیا ہے۔

تاہم سنیچر کو بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج نے جوابی خط میں پاکستان پر واضح کیا ہے کہ سرحدوں پر فائرنگ کی ابتدا ہمیشہ پاکستانی فورسز کی جانب سے ہوتی ہے۔

دریں اثنا جموں اور کشمیر خطوں میں انتظامیہ نے بتایا کہ اکھنور اور سامبا ضلعوں کے سرحدی خطوں کے بوبیان، پنسار، پہاڑ پور اور لچھی پورہ علاقوں سے شہریوں کو ہٹا کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔

غور طلب ہے پچھلے سال اکتوبر اور نومبر میں بھی دونوں افواج کے درمیان سرحدوں پر تناؤ پیدا ہوا جس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھارت اور پاکستان سے امن بحال کرنے کی اپیل کی تھی۔

اس کے بعد بھارتی بی ایس ایف اور پاکستانی رینجرز کے سیکڑ کمانڈروں کے درمیان فلیگ میٹنگ ہوئی جس میں ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر تناو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال اکتوبر اور نومبر میں بھی سرحدی خطوں میں فائرنگ کے تبادلے کی وجہ سے تناؤ رہا جس کے باعث ہزاروں لوگوں کو گھر چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں رہنا پڑا

یاد رہے 2003 میں اُس وقت کی واجپائی حکومت نے پاکستان کے ساتھ 740 کلومیٹر لمبی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر جنگ بندی کا سمجھوتہ کیا تھا لیکن دونوں ممالک اکثر اوقات ایک دوسرے اس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہِیں۔

دوسری جانب کشمیر کی سرحدوں پر فوجی کشیدگی ایک ایسے وقت دوبارہ پیدا ہوگئی ہے جب یہاں انتخابات میں غیر واضح نتائج کے بعد سیاسی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔

87 رکنی اسمبلی میں کسی بھی جماعت کو اکثریت یعنی 44 نشستیں نہیں ملی ہیں۔ حالانکہ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کو صرف 25 سیٹیں لے کر دوسرے نمبر پر ہے، لیکن بھارت پر اس جماعت کا اقتدار میں ہونے کے سبب اس کے سربراہ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر پر بی جے پی کا اقتدار ضروری ہے۔

مفتی محمد سعید کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو سب سے زیادہ یعنی 28 سیٹیں ملی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان مشترکہ حکومت کا معاہدہ ایک قدرتی امر تھا، لیکن اس میں دونوں کا نظریاتی تضاد آڑے آ رہا ہے۔

اسی بارے میں