خالدہ ضیا اپنی جماعت کے دفتر میں نظر بند

تصویر کے کاپی رائٹ Focus Bangla
Image caption خالدہ ضیا نے گزشتہ ہفتے حکومت سے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

بنگلہ دیش میں سیکیورٹی فورسز نے حزبِ اختلاف کی رہنما خالدہ ضیا کو ان کی پارٹی کے دفاترسے نکلنے سے روک دیا ہے اور دارالحکومت میں تمام احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگا دی ہے۔

پولیس کا موقف ہے کہ اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے لگائی جانے والی اس پابندی کا مقصد پر تشدد مظاہروں کی روک تھام کرنا ہے۔

خالدہ ضیا اور وزیر اعظم شیخ حسینہ دیرینہ سیاسی حریف ہیں اور دونوں کی جماعتوں نے پیر کے روز حریف مظاہرے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے گذشتہ اتخابات میں یہ کہ کر حصہ نہیں لیا تھا کہ ان میں دھاندلی ہوگی، پیر کو ان انتخابات کی پہلی سالگرہ ہے۔

خالدہ ضیا نے ایک بڑے حکومت مخالف مظاہرے کی قیادت کرنے تھی لیکن ہفتے کی شام ان کو اپنے آفس سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوے ان کے ایک ساتھی کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور خالدہ ضیا اپنے دفتر میں محصور ہیں۔‘

اطلات کے مطابق پولیس کی جانب سے حزب اختلاف کے ہیڈ کوارٹر کے دروازے بند کرنے کی وجہ سے خالدہ ضیا کو پارٹی کے دفتر میں ہی رات گزارنی پڑی۔

دوسری جانب مقامی پولیس کے انسپکٹر فیروز کبیر کا ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوے کہنا تھا کہ ’ ہم نے محترمہ خالدہ ضیا کو گرفتر نہیں کیا بلکہ ان کی حفاظت کے مدِ نظر علاقے کی سکیورٹی بڑھائی ہے۔‘

تازہ اطلات کے مطابق اب بھی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کے اردگرد پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے اور رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑکوں کی بندش کی گئی ہے۔

خالدہ ضیا نے گزشتہ ہفتے حکومت سے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال کے انتخابات کے بعد سے اب تک حزبِ اختلاف کے درجنوں کارکن لاپتہ ہوچکے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی گمشدگی میں حکومت ملوث ہے۔

اسی بارے میں