چین کا شہریوں کی ہلاکت پر شمالی کوریا سے احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین اور شمالی کوریا کو تقسیم کرنے والا دریائے ٹیومن۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کے ایک بگوڑے فوجی نے چین کے سرحدی شہر میں چار افراد کو ہلاک کر دیا ہے جس پر چین نے شمالی کوریا سے احتجاج کیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ اس فوجی نے دسمبر کے آخر میں سرحد پار کر ہیلونگ کے شہر میں رہائشیوں کو مارنے کے علاوہ نقدی اور اشیائے خردونوش بھی چوری کیں۔

بعد میں بگوڑے فوجی کو چین اور شمالی کوریا کو تقسیم کرنے والے دریائے ٹیومن کے شمال سے گرفتار کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ایک عرصے سے شمالی کوریا سے بھاگنے والے اس دریا کا استعمال کر رہے ہیں۔

واقعے کی تفصیلات بتائے بغیر چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں شمالی کوریا سے احتجاج کیا گیا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کو شمالی کوریا کے حوالے نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف مقدمہ چین میں ہی چلے گا۔

شمالی کوریا کے شہریوں کا کھانے کی تلاش میں چین کی سرحد عبور کرنے کا پہلے کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

ملک سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے اکثر لوگ پہلے چین جاتے ہیں اور وہاں سے دیگر ممالک کے راسطے جنوبی کوریا میں داخل ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ چین اکثر شمالی کوریا سے سرحد عبور کر کے آنے والوں کو معاشی تارکین وطن قرار دے کر واپس بھجوا دیتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ 2011 میں کم جونگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے لوگوں کے ملک سے فرار کو روکنے کے لیے سرحدی علاقوں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں