حالات ابھی اتنے خراب نہیں ہوئے۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ممتا بنرجی مغربی بنگال کی رہنما اور وزیر اعلیٰ ہیں

ہندوستان تیزی سے بدل رہا ہے۔ نظریات بدل رہے ہیں، حرکتیں بدل رہی ہیں اور قانون کے اطلاق کا طریقہ بھی۔

کولکتہ میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے شعلہ بیان بھتیجے سٹیج پر کھڑے ہوکر تقریر کر رہے تھے کہ ایک شخص نے آگے بڑھ کرانھیں چانٹا رسید کر دیا۔ اس کے بعد ترنمول کانگریس کے کارکنوں نے اس نوجوان کی جم کر پٹائی کی۔ نوجوان اب ہسپتال میں ہے اور پولیس نے اس کے خلاف قتل کی کوشش کا مقدمہ قائم کیا ہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ پر پیر کو ایک نوجان نے جوتا پھینکا، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے خلاف کن دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے لیکن جب پولیس اسے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے گھسیٹ کر لے جارہی تھی تو وہ چلا رہا تھا کہ ’مجھے مار ڈالو۔۔۔‘

کولکتہ کی پولیس نے جو کیا سو کیا، اس کا فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی، لیکن حالات ابھی اتنے خراب نہیں ہوئے ہیں کہ جوتا پھینکنے پر فوراً موت کی سزا دے دی جائے!

لیکن آج کل کب کیا ہوجائے اور کون کیا کہہ دے، کہنا مشکل ہے۔ کس نے سوچا ہوگا کہ بحیرہ عرب میں ایک چھوٹی سے کشتی ایک طوفان کھڑا کر سکتی ہے۔ کشتی پاکستان سے آئی تھی اور اب ہمیشہ کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں کہیں دفن ہے۔ لیکن کچھ سوال پیچھے چھوڑ گئی۔

اس پر سوار لوگ کون تھے، معمولی سمگلر یا دہشت گرد اور وہ گہرے سمندر میں کیا کررہے تھے؟ کشتی کو کن حالات میں آگ لگائی گئی اور کیا کوسٹ گارڈ کے اس آپریشن پر سوال کرنا غلط ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Indian Coast Guard
Image caption بحيرۂ ہند میں تباہ ہونے والی کشتی اپنے پیچھے بہت سارے سوال چھوڑ گئی ہے

باقی سوالوں کا جواب تو ہمیں معلوم نہیں لیکن آخری سوال کا جواب حکمراں بی جے پی کے ایک ترجمان دے چکے ہیں۔

کانگریس نے حکومت سے پوچھا تھا کہ اس آپریش کی تمام تفصیلات عوام کےسامنے پیش کی جائیں اور حکومت یہ بتائے کہ کشتی پر واقعی اگر دہشت گرد سوار تھے تو ان کا تعلق کس تنظیم سے تھا؟ جواب میں ترجمان نے کہا کہ کانگریس پارٹی پاکستان کے موقف کو تقویت دے رہی ہے اور پاکستان اور کانگریس کے ترجمانوں کی زبان میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

کانگریس کی مشکلات ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ پارٹی اف بھی کرتی ہے تو ہو جاتی ہے بدنام۔ شاید اسی لیے وہ اپنے کارکنوں سے معلوم کر رہی ہے کہ کیاعام لوگوں کی نظروں میں وہ ہندو مخالف جماعت ہے؟

اور بس آخر میں آپ کو یہ اور بتاتے چلیں کہ گذشتہ برس پارلیمانی انتِخابات کے دوران نریندر مودی نے ’گلابی انقلاب‘ کا خوب ذکر کیا تھا۔ اشارہ گوشت کی برآمدات کی طرف تھا اور الزام یہ کہ کانگریس کی حکومت ٹیکس میں رعایت دیکر گوشت کے ایکسپورٹ کو فروغ دے رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کانگریس پوچھ رہی ہے کہ گوشت کے ایکسپورٹ پر اب تک پابندی کیوں نہیں لگائی گئی ہے؟

اگرچہ ملک میں گائے کے گوشت کے ایکسپورٹ پر پابندی ہے لیکن نریندر مودی نے بار بار گوکشی کی بات کی اور لوگوں سے پوچھا کہ کیا وہ ایک ایسی پارٹی کو ووٹ دیں گے جو گو کشی کی اجازت دینے کے وعدے کرتی ہو؟

لیکن یہ سات مہینے پرانی بات ہے۔ اب وقت بدل گیا ہے۔ ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر لوٹ رہا ہے۔ معیشت میں ایک نیا جوش، ایک نئی رفتار ہے۔ اور گوشت کا ایکسپورٹ اپریل سے نومبر 2014 کے درمیان گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں دو ارب اسی کروڑ ڈالر سے بڑھ کر تین ارب تیس کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

اور کانگریس پوچھ رہی ہے کہ گوشت کے ایکسپورٹ پر اب تک پابندی کیوں نہیں لگائی گئی ہے؟ کچھ لوگ اپنی غلطیوں سے کبھی نہیں سیکھتے!

اسی بارے میں