ایک برس بعد سنندا پشکر کے قتل کا مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنندا کی موت تقریباً ایک سال قبل ہوئی تھی اور تب سے ہی طرح طرح کی قیاس آرائیاں جاری تھیں

بھارتی دارالحکومت دہلی کی پولیس نے سابق وفاقی وزیر اور رکن پارلیمان ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کی پُراسرار موت کے ایک برس بعد ان کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

سنندا کی موت تقریباً ایک سال قبل ہوئی تھی اور تب سے ہی طرح طرح کی قیاس آرائیاں جاری تھیں لیکن اب پولیس کا دعویٰ ہے کہ سنندا کو زہر دے کر قتل کیا گیا تھا۔

ان کی موت دلی کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ہوئی تھی۔ اس وقت ششی تھرور کانگریس کی حکومت میں وفاقی وزیر تھے اور سنندا کی موت کے وقت پارٹی کے ایک اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔

ُاُس وقت یہ کہا گیا تھا کہ سنندا ایک پاکستانی صحافی سے ششی تھرور کی مبینہ دوستی پر ان سے ناراض تھیں اور یا تو انھوں ہے غلطی سے یا جان بوجھ کر بڑی مقدار میں دوائیاں کھا لی تھیں یا ان کو لاحق کچھ بیماریوں کی وجہ سے قدرتی طور پر ان کی موت ہوگئی تھی۔

ششی تھرور نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا کہ پاکستانی صحافی کی وجہ سے ان کے ازدواجی تعلقات میں کوئی تلخی آئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ششی تھرور نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا کہ پاکستانی صحافی کی وجہ سے ان کے ازدواجی تعلقات میں کوئی تلخی آئی تھی

لیکن اب پولیس نےباضابطہ طور پر نامعلوم افراد کے خلاف دفعہ 302 کے تحت قتل کا مقدمہ قائم کیا ہے اور تفتیش کا محور یہ ہے کہ ’انھیں زہر انجکشن کے ذریعے دیا گیا تھا یا منہ سے؟‘

دہلی پولی سکے کمشنر بی ایس بسی نے کہا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی قتل کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

اس وقت یہ الزامات بھی سامنے آئے تھے کہ حکومت کیس کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس ترجمان راشد علوی نے کہاکہ ایک سال گز جانے کے بعد قتل کا مقدمہ قائم کیا جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور ’ہم امید کرتے ہیں کہ پولیس ایمانداری کے ساتھ تفتیش کرے گی۔‘

ششی تھرور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں قتل کا مقدمہ قائم کیے جانے پر بہت حیرت ہوئی ہے کیونکہ انہیں کبھی ایسا نہیں لگا تھا کہ سنندا کی موت قدرتی نہیں تھی۔

لیکن پولیس کےمطابق ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ سنندا کو کتنا زہر دیا گیا تھا اور مزید تفتیش میں غیر ملکی ماہرین کی مدد لی جائے گی۔

اسی بارے میں