سری لنکا کے صدر نے انتخابات میں شکست تسلیم کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سری لنکا کے صدر سنہ 2009 میں ختم ہونے والے خانہ جنگی کے بعد تیسری بار صدارت کے امیدوار تھے

سری لنکا میں تقریباً دس سال سے برسرِ اقتدار صدر مہندا راجہ پکشے کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق انھوں نے صدارتی انتخابات میں شکست تسلیم کر لی ہے۔

بیان کے مطابق راجہ پکشے ’عوام کی خواہشات کے سامنے جھکتے ہوئے اقتدار کی پرامن منتقلی کو یقینی بنائیں گے۔‘

خیال رہے کہ سری لنکا کے صدر سنہ 2009 میں ختم ہونے والے خانہ جنگی کے بعد تیسری بار صدارت کے امیدوار تھے۔

راجہ پکشے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے حزبِ مخالف کے رہنما کے ساتھ ملاقات میں اپنی شکست تسلیم کر لی ہے اور ملک کے نئے صدر آج جمعے کی شام کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔

صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ راجہ پکشے پہلے ہی سرکاری رہائش چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار اعظم عظیم کا کہنا ہے کہ صدر راجا پکشے کی جانب سے صدارتی انتخابات میں شکست تسلیم کرنے کے بعد آتش بازی کی گئی۔

راجہ پکشے سری لنکا کی سیاست میں ایک دہائی سے سرگرم تھے تاہم اس بار انھیں اپنے وزیرِ صحت میتھرئی پالا سریسینا کی جانب سے غیر متوقع چیلنج کا سامنا تھا۔

سری لنکا کے صدارتی انتخابات کے سرکاری نتائج جمعے کی شام سے پہلے مکمل نہیں ہوں گے تاہم ابتدائی نتائج کے مطابق میتھرئی پالا سریسینا کامیابی کے لیے درکار 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے قریب ہیں۔

راجہ پکشے اور میتھرئی پالا سریسینا گذشتہ سال نومبر تک ایک دوسرے کے اتحادی تھے تاہم سریسینا نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راجہ پکشے اور میتھرئی پالا سریسینا گذشتہ سال نومبر تک ایک دوسرے کے اتحادی تھے

سریسینا کو زیادہ تر ووٹ اقلیتی برادریوں سے ملے جن میں راجہ پکشے انتہائی غیر مقبول ہیں۔ تاہم سریسینا کو اکثریتی سنہالی برادری کی حمایت درکار ہو گی جو ماضی میں راجہ پکشے کی حامی رہی ہے۔

سری لنکا کے تمل علاقوں میں ووٹنگ کی شرح 70 فیصد کے قریب رہی اور اس سارے عمل کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

سری لنکا میں اس سے پہلے صدارتی انتخابات کے دوران مہلک تشدد کے واقعات پیش آتے تھے لیکن اس بار صورتحال مختلف رہی اور کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔

سری لنکا کے سبک دوش ہونے والے صدر راجہ پکشے نے آخری بار سال 2010 میں فوج کے سابق سربراہ سارتھ فونیسکا کو شکست دی تھی۔

سارتھ فونیسکا اس وقت جنگی جرائم کے الزام میں جیل کاٹ رہے ہیں۔