چین: ایغوروں کی مدد کرنے پر 10 ترک گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption انسانی حقوق کی تنظیمیں چین کی حکومت پر اویغور اقلیت پر تشدد اور ثقافتی اور مذہبی جبر کرنے کا الزام لگاتی ہیں۔

چین کے ایک سرکاری اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ چینی حکام نے 10 ترک شہریوں اور نو اویغور باشندوں کو اویغور شہریوں کو ملک سے باہر بھگانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

چین کی تشدد زدہ صوبہ سنکیانگ میں رہنے والے اویغور جن کی آبادی تقریباً 1 کڑوڑ ہے ،ایک عرصے سے چینی حکومت کے مبینہ عتاب کا نشانہ رہے ہیں۔ اویغور ترکی زبان بولتے ہیں اور یہ لوگ زیادہ تر مسلمان ہیں۔

گلوبل ٹائمز اخبار کے مطابق ان افراد کو پولیس نے نومبر میں شنگھائی پوڈانگ ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتا ر کیا تھا جب نو اویغور جعلی ترک پاسپورٹوں پر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ ترک باشندے اصل کاغذات پر ملک میں داخل ہوئے تھے اور بعد میں ان کاغذات میں رد و بدل کر کے ان کو فی کس 60 ہزار یوان کے عوض نو اویغور افراد کو بیچ دیا تھا۔

کمیونسٹ پارٹی کے حمایتی اس اخبار نے لکھا ہے کہ ہن نسلی اکثریت سے تعلق رکھنے والے دو چینی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

اخبار کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں ایک مطلوب دہشت گرد ہے اور کچھ کے پاس سے نسلی تعصب اور دہشت گردی سے متعلقہ ویڈیوز بھی ملی ہیں اور مشتبہ افراد پاکستان، افغانستان اور شام جانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے گرفتاریوں کے بارے میں تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تفصیل ذرائع ابلاغ میں موجود ہیں۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائی پر بین الاقوامی برادری کا اتفاق ہے اور یہ ہی چین کا موقف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین کی حکومت سنکیانگ کے علیحدگی پسندوں کو ملک میں ہونے والی حالیہ پر تشدد کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

شنگھائی پولیس اور شنگھائی میں ترکی کے قونصل خانے نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

خیال رہے کہ چین کی حکومت سنکیانگ کے علیحدگی پسندوں کو ملک میں ہونے والی حالیہ پر تشدد کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں میں حالیہ کچھ عرصے میں تیزی آئی ہے اور انھوں نے صوبے سے باہر بھی کاروائیاں کی ہیں۔

پچھلے سال مارچ میں یوننان صوبے میں کنمنگ ٹرین سٹیشن پر چاقوں سے مسلح حملہ آوروں نے 29 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔حکام نے اس واقعے کو چین کا 9/11 قرار دیتے ہوئے سنکیانگ کے علیحدگی پسندوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں چین کی حکومت پر اویغور اقلیت پر تشدد اور ثقافتی اور مذہبی جبر کرنے کا الزام لگاتی ہیں۔

حکام نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی کہ اویغوروں نے زمینی سرحد پار کرنے کے بجائے میں شنگھائی کے ہوائی اڈے سے ملک سے بھاگنے کی کوشش کیوں کی۔

ستمبر میں انڈونیشیائی پولیس نےدولتِ اسلامیہ سے منسلک ہونے کے شبہے میں چار اویغوروں کو گرفتار کیا تھا۔ یہ لوگ جعلی ترک پاسپورٹس پر ملک میں داخل ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ اویغور اپنی حکومت پر الزام لگاتے ہیں کہ انھیں ملک میں روزگار کے مناسب مواقعے مہیا نہیں کیے جاتے اور پاسپورٹ کے اجرا میں بھی امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔

اسی بارے میں