عوامی بےچینی کا علاج ’ایمرجنسی‘ ہوگی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ڈیڑھ مہینے میں صرف دارالحکوت نئی دہلی میں عیسائیوں کی چار عبادت گاہوں پر جملے ہو چکے ہیں

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں عیسائیوں کی چار عبادت گاہوں پر حملوں کے بعد عیسائیوں کے ایک وفد نے صدر پرنب مکھر جی سے ملاقات میں اپنی عبادت گاہوں، سکولوں اور دوسرے اداروں پر ہونے والے حملوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ بعض ہندو تنظمیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 30 جنوری کو گاندھی کی برسی کے موقع پر ملک کے بعض شہروں میں ان کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کا مندر بنائیں گے۔

بی جے پی کے کئی ارکانِ پارلیمان اور رہنما ہندوؤں کی آبادی بڑھانے کے لیے کم از کم چار بچے پیدا کرنے کی اپیلیں کر رہے ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ مسلمانوں کی شرح پیدائش زیادہ ہونے کے سبب آنے والے برسوں میں بھارت میں مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

یہی نہیں بعض ارکان پارلیمان اور آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں ملک کے کئی علاقوں میں خود اپنے دعوے کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے میں کوشاں ہیں۔

ایسے ہی حالات ہیں جن کے تناظر میں سپریم کورٹ کے سابق جج اور دانشور مارکنڈے کاٹجو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’بھارت میں جس طرح کے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں اگر یہ صورت حال قائم رہی تو ملک ایک بار پھر سنہ 1975 کے طرز کی ایمرجنسی کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘

جسٹس کاٹجو کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی نئی حکومت ترقی کے نعرے پر اقتدار میں آئی بی جے پی کے اقتدار کو سات مہینے ہو چکے ہیں لیکن بقول ان کے ترقی کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔

ان کا خیال ہے کہ حکومت نے جس طرح کی اقتصادی پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں ان سے آنے والے دنوں میں ملک کی اقتصادی صورت حال اور بھی پیچیدہ ہو سکتی ہے جس سے بھارت کے نوجوان اس حکومت سے بیزار ہونے لگیں گے اور حکومت کو عوامی بےچینی کو دبانے کے لیے سابق وزیرِ اعظم اندراگاندھی کے طرز کی ایمرجنسی کا سہارا لینا پڑے گا۔

وزیراعظم مودی انتخابات کے وقت سے ہی ترقی اور بہتر حکومت کی بات کر تے رہے ہیں لیکن وہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں ہندتوا کا پورا ایجنڈا بھارت کی سیاست کا محور بنا ہوا ہے۔

معروف دانشور کانتی باجپئی نے لکھا ’مذہبی فسادات، ہندو مذہب کے دوسرے مذاہب بالخصوص اسلام سے تعلقات کے بارے میں اشعال انگیز بیانات، رام جنم بھومی کے نام پر رائے عامہ ہموار کرنا، مذہب کی تبدیلی اور تعلیم کے نظام کو درہم بھرم کرنا اور اس کی جگہ ایک نیا نظام نافذ کرنا اس ہندو ایجنڈے کا مرکزی پہلو ہیں۔‘

بھارت اردوگان کے ترکی یا ولادیمیر پوتین کے روس کی طرح نظر آتا ہے جہاں عوام افتخار اور ترقی کی شدید تمنا لیے دائیں بازوکی سیاست اور اکثریتی برادری کے پاپولسٹ رہنماؤں کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔

بھارت میں منموہن سنگھ کی دس برس کی سست اور بے عمل حکومت نے ایک ایسا سیاسی خلا پیدا کیا ہے کہ کہ لوگ اب مودی سے کسی کرشمے کی ہی امید کر رہے ہیں۔

تاہم وزیر اعظم مودی نے سات مہینے کی مدت میں محض چند نعروں کے کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیا ہے۔

مودی کی حکومت کے مستقبل کا سب سے واضح اندازہ آئندہ ماہ بجٹ میں سامنے آئے گا۔

آئندہ مہینے ہی مودی کی سیاسی مقبولیت کا بھی اندازہ ہو سکے گا جب دہلی کا ریاستی انتخاب منعقد ہو گا جہاں میں بی جے پی کا مقابلہ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی سے ہے۔

دہلی کے انتخاب مودی کی ذاتی مقبولیت کے اندازے کے لیے ہی نہیں مستقبل کی سیاست کے نقطۂ نظر سے بھی خاصے اہم ہیں۔

اگر دہلی میں ‏عام آدمی پارٹی کامیاب ہوتی ہے تو یہ مودی کی لیے محض انتخابی شکست ہی نہیں مستقبل کا سب سے بڑا سیاسی چیلنج بھی ہو گا۔

اسی بارے میں