’جے سو چارلی‘ ہیڈلائن پر ایرانی اخبار بند

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مردم امروز نے جارج کلونی کی تصویر شائع کی تھی جس میں وہ ’جے سو چارلی‘ والا لگائے ہوئے ہیں

ایران کی ایک عدالت نے مردم امروز نامی اخبار کو جارج کلونی کی ایسی تصویر شائع کرنے پر بند کرنے کا حکم دیا ہے جس میں جارج کلونی وہ بیج لگائے ہوئے جس پر درج ہے ’جے سو چارلی‘ یعنی ’میں چارلی ہوں‘۔

اخبار نے جارج کلونی کی تصاویر کے اوپر نظرگیر جملہ چسپاں کیا تھا ’من ہم چارلی ہستم‘۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے تجزیہ نگار ایلن جانسٹن کے مطابق ایران کے قدامت پسند عناصر ’کی نظر میں ’میں بھی چارلی ہوں‘ ایک غیر اسلامی فقرا ہے۔

جج نے کہا کہ ’یہ ہیڈلائن ناشائستہ ہے۔

گزشتہ ہفتےمسلح افراد کے حملے کا نشانہ بننے والے فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو نے اپنےنئے شمارے کے سرورق پر ایک خاکہ شائع کیا تھا جو اس کے مطابق پیغمبرِ اسلام کا خاکہ ہے۔

میگزین کے سرورق پر شائع کیے گئے خاکے میں ایک شخص کو آبدیدہ دکھایا گیا ہے اور وہ ایک ایسے بینر کے نیچے کھڑا ہے جس پر لکھا ہے ’سب کچھ معاف کر دیا‘۔

خاکے والے شخص کے ہاتھ میں پلے کارڈ ہے جس پر ’جے سو چارلی‘ یعنی ’میں چارلی ہوں‘ درج ہے۔

مسلمان پیغمبر اسلام کے کسی خاکے کی اشاعت کو اشتعال انگیز تصور کرتے ہیں۔

مردم امروز کے ڈائریکٹر احمد ستاری نے ارنا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ثقافتی امور اور ذرائع ابلاغ کی انچارج عدالت نےاخبارکی اشاعت کو روک دیا ہے۔

بی بی سی فارسی کے سینیئر ایڈیٹر ابراہیم خلیلی کے مطابق مردم امروز کی اشاعت رواں مہینے ہی شروع ہوئی تھی اور اسے سیاسی طور پر صدر حسن روحانی کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ ابراہیم خلیلی کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے لیکن حتمی نتیجے میں اس عدالتی فیصلے کے بدلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گولڈن گلوب ایوارڈ کی تقریب میں املہ کلونی نےجو بیگ اٹھا رکھا تھا اس پر درج تھا’جے سو چارلی‘ یعنی ’میں بی چارلی ہوں‘
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters