بھارت میں میکڈونلڈز کا بچے کے ساتھ ’ناروا سلوک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption میکڈونلڈز امریکی فاسٹ فوڈ کمپنی ہے جس کے ریستوران دنیا کے بیشتر حصے میں ہیں

بھارت کے مغربی شہر پونے میں میکڈونلڈز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ایک ریستوران میں ایک سٹریٹ چائلڈ کو مبینہ طور پر باہر نکال دینے کے واقعے کی تحقیقات کروا رہے ہیں۔

اِس بچے کو ایک خاتون نے ڈرنک خرید کر دینے کی پیش کش کی تھی لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق انھیں میکڈونلڈز کے عملے نے یہ کہہ کر باہر نکال دیا کہ ’اِس طرح کے لوگوں کو یہاں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔‘

میکڈونلڈز کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کی حمایت نہیں کرتا اور اس واقعے میں ملوث عملے کو معطل کردیا گیا ہے۔

یہ شہر کا قدیمی میکڈونلڈز کا سلسلہ ہے اور اس کمپنی کے انڈیا کے نائب صدر نے کہا ہے کہ جہاں ضرورت ہوگی کمپنی اپنے عملے کی از سر نو تربیت کرائے گی۔

کمپنی کو اس واقعے کی وجہ سے سوشل میڈیا کی ویب سائیٹس پر تنقید کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption یہ تصویر شاہین عطر والا کے فیس بک سے لی گئی ہے اور یہ پونے مرر میں بھی شائع کی گئی ہے

مقامی اخبار ’پونے مرر‘ کے مطابق یہ واقعہ گذشتہ ہفتے اس وقت پیش آیا جب ممبی سے آنے والی ایک خاتون شاہین عطر والا نے ایک بچے کو میکڈونلڈز کے گرد چکر لگاتے دیکھا اور انھوں نے اسے ایک ڈرنک دلوانے کے لیے قطار میں کھڑا کر لیا تاہم ریستوراں کے ایک عملے نے آ کر اسے وہاں سے نکال دیا۔

میکڈونلڈز کے عملے کی اس حرکت پر شاہین نے احتجاج کے باوجود اس بچے کو قطار سے نکال دیا گیا۔

شاہین نے بعد میں اپنے ساتھ اس بچے کی تصویر اور ڈرنک کے بل کی تصویر لے کر سوشل میڈیا پر ڈالی جس کے بعد اس کے خلاف رد عمل آیا۔

اخبار کے مطابق گذشتہ سنیچر کو چند افراد نے میکڈونلڈز کے خلاف مظاہرہ کیا، نعرے لگائے اور اس کے دروازے اور شیشوں پر گوبر پھینکا جس کی وجہ سے ریستوران کو تھوڑی دیر کے لیے بند کرنا پڑا۔

اخبار کے مطابق پولیس افسر پی اے چوگھلے کا کہنا ہے کہ پولیس ان لوگوں کی تلاش میں ہے جنھوں نے ریستوراں پر گوبر پھینکا تھا۔

اسی بارے میں