امریکی صدر براک اوباما بھارت کے دورے پر نئی دہلی پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت کے صدر پرنب مکھرجی نے صدارتی محل کے صحن میں صدر اوباما کا استقبال کیا

امریکی صدر براک اوباما تین روزہ سرکاری دورے پر اتوار کو بھارتی دارالحکومت دہلی پہنچے ہیں۔ اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں جن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔

نئی دہلی میں انڈیا گیٹ کے قریب حیدرآباد ہاؤس میں بھارتی وزیر اعظم اور صدر اوباما کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

اس سے پہلے بھارتی وزیر اعظم نے پروٹوکول کے برخلاف امریکی صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ کا اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔

دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی کا مظاہرہ کیا اور گلے ملے۔

صدر اوباما پروگرام کے مطابق راشٹرپتی بھون یعنی ایوان صدر پہنچے جہاں روایتی طور پر انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

بھارت کے صدر پرنب مکھرجی نے صدارتی محل کے صحن میں صدر اوباما کا استقبال کیا۔

اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی کابینہ کے کئی ارکان موجود تھے۔

اوباما کے اعزاز میں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارتی وزیر اعظم نے پروٹوکول کے برخلاف امریکی صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ کا اندرا گاندھی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر استقبال کیا

بھارتی کابینہ کے وزرا اور اعلی حکام سے ملاقات کے بعد براک اوباما نے کہا: ’یہ ہمارے لیے باعث عزت ہے اور ہم اس غیر معمولی میزبانی کے لیے شکرگزار ہیں۔‘

صدر براک اوباما نے اس کے بعد راج گھاٹ جا کر مہاتما گاندھی کی سمادھی پر حاضری دی۔

راج گھاٹ سے اوباما حیدرآباد ہاؤس جائیں گے جہاں دونوں ممالک کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگا اور وہ وزیراعظم نریندر مودی کے ہمراہ مشترکہ طور پر خطاب کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق اس موقعے پر دونوں رہنما تجارت، سکیورٹی، جوہری قوت اور ماحولیات کی تبدیلی پر بات کریں گے۔

براک اوباما کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر منعقد تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

ان کا خصوصی طیارہ ایئرفورس ون بھارتی وقت کے مطابق صبح پونے دس بجے دہلی کے اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر اترا۔

اتوار کی رات بھارتی صدر پرنب مکھرجي نے براک اوباما اور ان کی اہلیہ کے اعزاز میں صدارتی محل میں خصوصی عشائیے کا اہتمام کیا ہے۔

وہ اپنے اس دورے میں نریندر مودی کے ساتھ عوام سے ریڈیو پر بھی خطاب کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption براک اوباما کو اس دورے کی دعوت نریندر مودی نے دی تھی

دہلی میں بی بی سی کی گیتا پانڈے کا کہنا ہے کہ جس مقام پر پیر کو یومِ جمہوریہ کی پریڈ منعقد ہونا ہے وہاں عموماً سکیورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں لیکن اس مرتبہ یہ انتظامات انتہائی سخت ہیں۔

انڈیا گیٹ اور راج پتھ کا علاقہ گذشتہ کئی دن سے عوام کے لیے ممنوع علاقہ بنا ہوا ہے اور یہاں ہزاروں اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہوگا جب امریکی صدر اتنی دیر تک کھلے آسمان تلے کسی تقریب میں اتنی دیر تک شریک رہیں گے۔

اوباما نے واشنگٹن میں اپنی حلف برداری کی تقریب میں تقریباً 40 منٹ گزارے تھے جبکہ راج پتھ پر یوم جمہوریہ کی تقریب دو گھنٹے تک چلے گی۔

بھارتی دارالحکومت کے موریا شیریٹن اور تاج محل ہوٹل کی بھی سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اوباما اور ان کی ٹیم ان میں سے کسی ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہوگی۔ سکیورٹی کی وجہ سے اوباما کی حتمی قیام گاہ کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

بی بی سی ہندی کے سلمان راوی کے مطابق امریکی صدر کے دورے پر دہلی کی عوام میں کافی جوش ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ کی تقریب میں امریکی صدر کی پہلی بار شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ اب بھارت دنیا کی بڑی طاقتوں سے آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنے کی حیثیت رکھنے لگا ہے۔

تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے خیال میں اوباما کے اس دورے کا زیادہ فائدہ امریکہ کو ملے گا نہ کہ بھارت کو۔

براک اوباما کے دورۂ بھارت کے طے شدہ شیڈول میں بھی سنیچر کو تبدیلی کی گئی ہے اور اب وہ تاج محل دیکھنے آگرہ نہیں جائیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جوش ارنسٹ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما کو تاج محل نہ جا پانے کا افسوس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد اوباما نئے شاہ سلمان سے مل کر تعزیت کرنا چاہتےہیں۔