امریکہ، بھارت جوہری معاہدے پر اختلافات ختم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر اوباما نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ’چائے پر چرچا‘ کا ذکر کیا

امریکہ کے صدر براک اوباما نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مذاکرات کے بعد اعلان کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سول جوہری معاہدے کی راہ میں حائل اختلافات پر سمجھوتہ ہوگیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے دفاع، ماحولیات اور تجارت کے شعبوں میں زیادہ تعاون کا بھی اعلان کیا ہے۔

صدر اوباما بھارت کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ دلی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سول جوہری معاہدے کے اطلاق کی راہ میں ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے۔ اور ان دو اخلافات پر سمجھوتہ ہوا ہے جن کی وجہ سے یہ معاہدہ اٹکا ہوا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ اب اس معاہدے کی بنیاد پر کمرشل تعاون کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور امریکہ کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا ہے وہ ’موجودہ بھارتی قانون اور ہندوستانی کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں ہے۔‘

اصل تنازع ایک ہندوستانی قانون پر تھا جس کےتحت جوہری حادثات کی صورت میں آپریٹر کے ساتھ ساتھ جوہری بجلی گھر فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی معاوضے کی ادائیگی کا ذمہ دار بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکہ کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ جو بھی جوہری مواد ہندوستان کو کہیں سے بھی حاصل ہوگا، امریکہ کو اسے ٹریک کرنے یا اس ہر نگاہ رکھنے کا حق حاصل رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صدر اوباما نے مشترکہ پریس کانفرنس کا آغاز نمسکار کے ساتھ کیا

سمجھوتے کی تفصیلات بعد میں وزارت خارجہ کی ایک بریفنگ میں بتائی گئیں۔

وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے مطابق معاوضے کی ذمہ داری سے متعلق خدشات کو ختم کرنے کے لیے ایک انشورنس پول بنایا جائے گا اور اس طرح ہندوستانی قانون میں ترمیم کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے اور موجودہ سخت قانون خود بی جے پی کی حمایت سے ہی منظور کیا گیا تھا۔ لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی کمپنیاں بھی اس بندوبست سے مطمئن ہوں گی یا نہیں۔

لیکن قومی سلامتی پر صدر اوباما کے نائب مشیر بین رہوڈز نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں بھارتی حکومت نے ہمارے خدشات کا ازالہ کردیا ہے۔۔۔ اب کمپنیوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگاکہ وہ ان نئی یقین دہانیوں کے بعد یہاں کاروبار کرنا چاہتی ہیں یا نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دونوں ملکوں نے دفاع اور تجارت کےشعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ لیکن بات چیت میں دوسرا اہم مسئلہ ماحولیات کا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کٹوتی کی اہمیت سمجھتےہیں اور اس سلسلے میں جو معاہدے ہوا ہے وہ ’کسی ملک یا شخص کے دباؤ میں نہیں کیا گیا ہے۔۔۔دباؤ صرف گیسوں کے اخراج اور بڑھتی ہوئی حدت کا ہے۔‘

صدر اوباما اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے نئے دوستانہ تعلقات کی ایک غیرمعمولی جھلک بھی پیش کی۔ نریندر مودی نے کہا کہ ’میرے اور براک کے درمیان وہ دوستی بن گئی ہے، اسے کھلے پن کی وجہ سے ہم آرام سے فون پر بات کر لیتے ہیں، آرام سے گپ مار لیتے ہیں، ہنسی مذاق کر لیتے ہیں۔۔۔اس کیمسٹری کی وجہ سے ہم اور ہمارے عوام قریب آئے ہیں۔‘

اگرچہ سول نیوکلئر ڈیل پر آج کے اعلان کو بڑی پیش رفت مانا جا رہا ہے لیکن یہ کہنا شاید ابھی قبل از وقت ہوگا کہ ہندوستان میں اب امریکی کمپنیاں بے جھجھک جوہری بجلی گھر قائم کرسکیں گی۔

اسی بارے میں