افغان طالبان کا دورۂ چین، ’ثالثی کی درخواست نہیں کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افغان طالبان نے دورہ چین کی تصدیق کر دی ہے

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان وفد کے دورہ چین کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے تنظیم نے افعان حکومت کے ساتھ چین کی ثالثی کی درخواست نہیں کی ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان نے کہا ہے ’ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ افغانستان کی اسلامی امارات دنیا خطے اور خصوصی طور پر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پرانے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے اور وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق آنا جانا ہوتا ہے۔ جس میں پڑوسی ملک چین بھی شامل ہے۔‘

تاہم طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا کہ انھوں نے کسی بھی ملک سے حکومت کے ساتھ بات چیت یا مذاکرت کے لیے ثالثی کے لیے نہیں کہا۔

انھوں نے کہا کہ کئی ممالک نے طالبان کو ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ تاہم طالبان کی جانب سے انھیں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق طالبان ان ممالک کی تجاویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ابھی تک طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

طالبان کے وفد نے نومبر میں چین کا دورہ کیا تھا اور وفد کی سربراہی قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے اہم رکن دین محمد حنیف نے کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ arg
Image caption افغان صدر نے بھی نومبر 2014 میں چین کا دورہ کیا تھا

چین افغانستان میں نیٹو کے جنگی رول کے خاتمے اور زیادہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں ایک فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے جن میں مذاکرات ان کا ممکنہ کردار بھی ہو سکتا ہے۔

چین کا موقف ہے کہ طالبان کو اقتدا میں شامل کیا جائے۔

گذشتہ 13 سال میں چین کی افغانستان میں زیادہ توجہ اقتصادی امور پر رہی ہے۔ افغانستان کے لوگر صوبے میں انھیں اربوں ڈالر کی معدینات نکالنے کا پراجیکٹ ملا تھا جبکہ شمالی افغانستان میں تیل کی تلاش اور ریفائنری لگانے کے منصوبے کا ٹھیکہ بھی ان کے پاس ہے تاہم افغان سیاست میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔

لیکن یہ غور طلب بات ہے کہ ممکنہ سیاسی کردار کے لیے چین نے گذشتہ سال افغانستان کے لیے اپنے ایک قابل اعتبار سفارتکار سن یو شی کو افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کیا تھا۔

پاکستان چین انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کی نسبت چین افغانستان میں اس لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ اس ملک کا کبھی افغانستان میں کوئی فوجی کردار نہیں رہا ۔

افغانستان کے سابق وزیر دفاع شاہنواز تنائی نے بی بی سی کو بتایا کہ چین کے بارے میں افغانستان کے لوگوں میں مثبت سوچ موجود ہے اور ان کے کسی بھی کردار کو پذیرائی حاصل ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ طالبان کے چین کے ساتھ پرانے روابط ہیں اسلام آباد میں بھی چینی سفارت کاروں کی افغان طالبان کے ساتھ ملاقات ہو چکی ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ جن دنوں میں طالبان نے چین کا دورہ کیا تھا لگ بھگ ان ہی دنوں میں افغان صدر اشرف غنی نے بھی چین کا دورہ کیا تھا جس میں دو طرفہ مذاکرات کے علاوہ انھوں نے ایشیا سے متعلق کانفرنس میں شرکت بھی کی تھی۔

اسی دورے کے دوران انھوں نے طالبان سے مذاکرت کی اپیل بھی کی تھی تاہم طالبان موجودہ حکومت سے بھی مذاکرات سے انکار کرتے ہیں اور وہ پہلے امریکہ کے ساتھ براہ راست کچھ مسائل حل کرنے کے خواہاں ہیں جس میں تمام غیر ملکی افواج کا انخلا بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں