’بھارت بہترین ساتھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اوباما دہلی میں طلبا کے ساتھ ایک ٹاؤن ہال مباحثے کی طرز پر ملاقات میں بات کر رہے تھے

امریکی صدر براک اوباما نے بھارت کے تین روزہ دورے کے اختتام پر کہا ہے کہ ان کا ملک بھارت کا ’بہترین ساتھی‘ بن سکتا ہے مگر انھوں نے زور دے کر کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کو پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا جب تک بھارت ماحول کے لیے بہتر ایندھن کا استعمال نہیں اپناتا۔

صدر اوباما دہلی میں طلبا کے ساتھ ایک ٹاؤن ہال مباحثے کی طرز پر ملاقات میں بات کر رہے تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات میں ابھی تک ’بہت سارے امکانات‘ موجود ہیں۔

بی بی سی کے سنجوئے موجمدار کے مطابق صدر اوباما کے استقبال کے لیے 2000 کے قریب طلبا موجود تھے جن میں اس سال نوبل کا امن انعام حاصل کرنے والے کیلاش ستیارتھی بھی شامل تھے۔

صدر اوباما نے کہا کہ ’بھارت اور امریکہ نہ صرف قدرتی ساتھی ہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ بھارت کا بہترین ساتھی بن سکتا ہے۔‘

’یقیناً بھارتی ہی اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ بھارت نے دنیا میں کیا کردار ادا کرنا ہے مگر میں اس لیے یہاں پر ہوں کیونکہ میں اس بات پر یقینِ کامل رکھتا ہوں کہ ہمارے دونوں ممالک کے لوگوں کے لیے روزگا کے مزید مواقع ہوں گے اور ہماری قوموں کے لیے ایک محفوظ اور زیادہ مصاویانہ بنیادوں پر کام کرنے والی دنیا ہو گی اگر ہماری دونوں جمہوریتیں اکٹھی کھڑی ہو کر کام کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر اوباما کے ساتھ اس ملاقات میں 2000 طلبا اور اہم شخصیات موجود تھیں

صدر اوباما نے خبردار کیا کہ دونوں ممالک ’موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کی اہلیت‘ رکھتے ہیں اگر بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک نامیاتی ایندھن کا استعمال کم کر دیں۔

انھوں نے مذہبی برداشت اور خواتین کے تحفظ اور اُن کی عزت کی بات کی۔

’ہمارے دونوں ممالک میں بنیادی آزادی کا تحفظ (مذہبی) حکومت کی ذمہ داری مگر یہ ہر شخص کی ذمہ داری بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہر عورت کو اپنے روز مرہ کے کام کرنے کے لیے موقع ملنا چاہیے کہ وہ سڑکوں پر آزادی سے چل پھر سکے، بس پر سواری کر سکے اور محفوظ رہے اور اسے اسی طرح کی عزت اور تعظیم کا برتاؤ کیا جائے جس کی وہ مستحق ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر اوباما کا تین روزہ دورہ دونوں حلیف ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے تھا

بھارت پر دہلی میں ایک 23 سالہ طالبہ کے ساتھ ریپ کے واقعے کے بعد بہت زیادہ تنقید کی جاتی رہی ہے جسے دسمبر 2012 کو دہلی کی ایک بس میں گینگ ریپ کے بعد شدید زخمی حالت میں بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا اور بعد میں وہ اِن زخموں سے چل بسیں۔

صدر اوباما کا تین روزہ دورہ دونوں حلیف ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے تھا۔

اتوار کو دورے کے پہلے دن صدر اوباما اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دونوں ممالک کے درمیان تعطل کے شکار سول جوہری معاہدے میں پیش رفت کا اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیر کو دووں ممالک نے باہمی رشتوں میں اضافے کو سراہا جبکہ بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں کے درمیان مضبوط رشتے ’تمام لوگوں کے لیے اس دنیا کو بہتر جگہ بنائیں گے۔‘

پیر کو براک اوباما اور نریندر مودی دونوں رہنماؤں نے باہمی رشتوں میں اضافے کو سراہا جبکہ بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں کے درمیان مضبوط رشتے ’تمام لوگوں کے لیے اس دنیا کو بہتر جگہ بنائیں گے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ چند سالوں میں تجارت میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم درست جانب بڑھ رہے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ اس میں اور کتنا کام ہو سکتا ہے۔‘

صدر اوباما کا دورہ سعودی شاہ عبداللہ کی وفات کی وجہ سے تین دن کے لیے مختصر کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اب وہ اور اُن کی اہلیہ تاج محل نہیں دیکھ پائیں گے۔

اسی بارے میں