خون برائے فروخت: بھارت کا غیر قانونی ’سرخ بازار‘

تصویر کے کاپی رائٹ think
Image caption پیشہ ور خون دینے والے ضرورت مند مریضوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں

بھارتی دارالحکومت کے ایک سرکاری ہسپتال کی ایک مصرف راہداری میں ہم خون کے ایک دلال کی تلاش میں تھے۔

ہسپتال کے سکیورٹی گارڈ نے ہمیں بتایا تھا کہ ہم ایک لنگڑے شخص کو تلاش کریں۔ ہم نے راجیش نام کے اس دلال کو تلاش کر لیا جو ایک دکان پر پلاسٹک کی پیالی میں چائے پی رہا تھا اور اوپر بجلی کے تاروں پر سے بندر گزر رہے تھے۔

ہم نے اسے بتایا کہ ہم ایک مریض کے رشتے دار ہیں اور ہمیں تین یونٹ خون چاہیے۔

راجیش نے کہا: ’تین ہزار روپے (50 ڈالر) فی ڈونر لگیں گے، باقی تمام چیزیں مجھ پر چھوڑ دیں۔‘

خون بیچنا اور خون کا عطیہ دینے والوں کو معاوضہ دینا بھارت میں غیر قانونی ہے لیکن پورے ملک میں خون کی خرید و فروخت کا ایک بڑا بازار پھیلا ہوا ہے۔

بھارت میں خون کی ترسیل کی زبردست کمی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر ملک کو اس کی آبادی کے لحاظ سے ایک فی صد خون ذخیرہ کرنا چاہیے۔ اس طرح بھارت کو سالانہ ایک کروڑ 20 لا کھ یونٹ چاہیے لیکن اسے صرف 90 لاکھ یونٹ ہی دستیاب ہیں، یعنی 25 فی صد کم۔

تصویر کے کاپی رائٹ anu
Image caption بھارت میں مرکزی طور پر خون اکٹھا کرنے والا کوئی ادارہ نہیں ہے

گرمیوں میں اس میں 50 فی صد کی مزید کمی آ جاتی ہے اور پیشہ ور خون دینے والے سب کچھ کر گزرنے والے مریضوں کی ضرورت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

راجیش پہلے گھروں پر قلعی کیا کرتا تھا لیکن ایک حادثے میں اس کا پاؤں ضائع ہو گیا۔ وہ کئی مہینے تک ہسپتال میں رہا جہاں اس نے محسوس کیا کہ کہ وہ کچھ کمیشن لے کر ضرورت مند مریضوں کو خون فراہم کرا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں خون اکٹھا کرنے والی کسی مرکزی ایجنسی کی کمی اور ذات پات کے نظام کے نتیجے میں خون کی کمی رہتی ہے۔

اور اس کی وجہ سے خون کا ایک غیر قانونی بازار پھل پھول رہا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے سنہ 1996 میں پیسے کے عوض خون کا عطیہ دینے اور غیر لائسنس شدہ بلڈ بینکوں پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن پھر بھی کچھ نہیں بدلا ہے۔

ابھی بھی طلب رسد سے زیادہ ہے۔ نجی بلڈ بینک حکومت کو 120 ڈالر ادا کر کے لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم غیر قانونی خون کا بازار خفیہ طور پر کھلا ہوا ہے۔

Image caption بعض پرائیوٹ بلڈ بینکوں پر جعلی سرکاری مہر لگانے کا الزام ہے

سنہ 2008 میں نیپال کی سرحد کے قریب گورکھپور کے ایک بلڈ فارم سے 16 لوگوں کو بازیاب کروایا گیا تھا جن میں اترپردیش سے ملحق ریاست بہار کا ہری کامت بھی تھا۔

ان غریب لوگوں کو ملازمت کا لالچ دے کر لایا گیا تھا لیکن انھیں اس بات پر راضی کر لیا گیا کہ وہ سات ڈالر فی یونٹ کی قیمت پر خون دیں۔

اس بات کا انکشاف کرنے والی صحافی نیہا دکشت نے کہا کہ ’ابتدا میں انھوں نے اپنی مرضی سے خون دیا لیکن جب میں ہری کامت سے ہسپتال میں ملی تو اس نے بتایا کہ کچھ دنوں کے بعد وہ اتنے کمزور ہو گئے تھے کہ اس کے خلاف احتجاج بھی نہیں کر سکتے تھے اور اگر بھاگنے کی کوشش کرتے تو انھیں مار پیٹ کر مقفل کر دیا جاتا۔‘

ان لوگوں کو ڈھائی سال تک ہفتے میں دو تین بار خون دینے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا، جبکہ ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ آٹھ سے 12 ہفتے کے دوران کسی کو ایک ہی بار خون دینا چاہیے۔

نیہا دیکشت کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک طرح سے خون کا ڈیری فارم تھا جہاں ان لوگوں کو پنجرے میں قید کیا گیا تھا اور ہر مہینے 16 بار خون لیا جاتا تھا۔‘

نیہا کے مطابق پھر اس خون کو سرکاری قیمت سے 15 گنا زیادہ قیمت پر 18 ڈالر فی یونٹ فروخت کیا جاتا تھا۔

Image caption کہیں کہیں تو خون کی جانچ کا بھی کوئی معقول انتظام نہیں ہے

بعض پرائیوٹ بلڈ بینکوں پر سرکاری مہریں لگانے کا الزام ہے۔ تاہم اس بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں کہ یہ غیر قانونی بازار کتنا بڑا ہے اور ملک میں اس قسم کے مزید کتنے ’بلڈ فارم‘ ہیں۔

تاہم یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت بھر میں 30 لاکھ یونٹوں کی اضافی ضرورت ہے اور اگر اسے 15 ڈالر فی یونٹ کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ ساڑھے چارکروڑ ڈالر کا بازار ہے۔

نیہا کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ شہر میں رہتے ہیں اور آپ کا تعلق متوسط طبقے سے ہے تو آپ اس کی قیمت ادا کر سکتے ہیں، لیکن باقی ہندوستانی اتنے خوش قسمت نہیں ہیں۔‘

اسی بارے میں