ٹی ٹی پی کے منحرف رہنما اب داعش کے کمانڈر

تصویر کے کاپی رائٹ manbar
Image caption پاکستان کے مختلف علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کے حق میں وال چاکنگ بھی کی گئی

عراق اور شام میں اسلامی خلافت کا اعلان کرنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے باضابط طور پر غیر قانونی تحریک طالبان پاکستان کے ایک سابق کمانڈر حافظ سعید خان کو پاکستان اور افغانستان کے لیے اپنا امیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حافظ سعید خان اس خطے کے پہلے ایسے کمانڈر ہیں جس کو خراسان کے خطے کے لیے نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستانی حکام داعش پر بات کرنے سےگریزاں

یاد رہے کہ گذشتہ سال جب دولت اسلامیہ کی طرف سے باقاعدہ طورپر خلافت کا اعلان کیا گیا تو اس کے ساتھ ان کی طرف سے دنیا کا ایک مجوزہ نقشہ بھی سامنے آیا تھا جس میں پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کو خراسان کے نام سے پکارا گیا ہے۔

حافظ سعید خان کا تعلق اورکزئی ایجنسی کے قبیلے ماموں زئی سے بتایا جاتا ہے۔

وہ اورکزئی ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ تاہم انھوں نے تحریک طالبان سے اپنی راہ تقریباً ایک سال پہلے اس وقت جدا کی جب نومبر 2013 میں حکیم اللہ محسود ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے ساتھ ہی طالبان میں امارت کے معاملے پر اختلافات کھول کر سامنے آگئے تھے۔

ان دنوں تین کمانڈر امارت کے امیدواروں کے طور پر سامنے آئے جن میں مولانا فضل اللہ ، خان سید سجنا اور حافظ سعید خان شامل ہیں۔

تاہم جب مولانا فضل اللہ کو امیر مقرر کیا گیا تو حافظ سعید اورکزئی ایجنسی اور بعض دیگر علاقوں کے کمانڈروں سمیت تحریک کی کارروائیوں سے الگ ہوگئے اور اپنا الگ گروپ بنانے کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔

تقریباً دو ہفتے قبل حافظ سعید خان کی جانب سے ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ تحریک طالبان سے منحرف ہونے والے 10 کمانڈروں سمیت دولت اسلامیہ کے امیر المومنین ابوبکر البغدادی کے بیت لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

حافظ سعید خان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مسلکی طور پر سخت گیر موقف کے حامل رہے ہیں۔ بنیادی طور پر ان کا جھکاؤ اشاعت التوحید والسنت یا پنچ پیر مسلک کی طرف رہا ہے جس کا اثر رسوخ اورکزئی ایجنسی، باجوڑ اور مالاکنڈ ڈویژن کے علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ امیر مولانا فضل اللہ بھی پنچ پیر مسلک کے حامی بتائے جاتے ہیں۔ دولتِ اسلامیہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سخت گیر موقف کی حامل تنظیم ہے جو جہادی معاملات میں القاعدہ اور افغان طالبان سے سخت عقیدہ رکھتی ہے۔

دولت اسلامیہ کی طرف سے پاکستان اور افغانستان کےلیے اپنا نمائندہ تو مقرر کردیا گیا ہے لیکن اس خطے میں تاحال ایسا کوئی ایسا علاقہ نظر نہیں آتا جہاں دولتِ اسلامیہ کا اثرو رسوخ زیادہ ہوں یا ان کے زیرکنٹرول سمجھا جاتا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دولتِ اسلامیہ کی جانب سے افغانستان میں بھرتیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں

شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے بیشتر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دولت اسلامیہ بنیادی طور پر سنی شدت پسند تنظیم سمجھی جاتی ہے لہذٰا امکان ظاہر کیا جا رہا کہ آنے والے دنوں میں اس تنظیم کو ان علاقوں میں اثرو رسوخ مل سکتا ہے جہاں شیعہ سنی فسادات ہوتے رہے ہیں۔

اس بات کا اندازہ بلوچستان حکومت کی طرف سے چند ماہ پہلے وفاقی حکومت کو بھیجی گئی اس خفیہ رپورٹ سے بھی کی جا سکتی ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کی طرف سے پاکستان میں 10 سے 12 ہزار کے قریب افراد کو بھرتی کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ بھرتیاں خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو اور کرم ایجنسی میں کی گئی ہیں تاہم وفاقی حکومت نے اس وقت ایسی اطلاعات کی سخت الفاظ میں تردید کی تھی۔

اگرچہ ان دونوں علاقوں ہنگو اور کرم ایجنسی میں تاحال داعش کے سرگرمیوں کے واضح اشارے تو نہیں مل رہے تاہم یہ بات درست ہے کہ یہ علاقے ماضی میں شیعہ سنی فسادات سے بری طرح متاثر رہے ہیں اور یہاں ہونے والی جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں