دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روس، بھارت اور چین پر مشتمل گروپ رک ( RIC) کا چین میں اجلاس۔

روس، بھارت اور چین پر مشتمل گروپ رک ( RIC) کے اجلاس میں بھارت نے تجویز پیش کی ہے کہ دہشت گردی کی حمایت اور اس کے لیے وسائل فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

بھارتی صحافی سیبل داس گپتہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی خواہش ہے کہ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ قرارداد منظور کرے۔ انیس سال پہلے بھی بھارت اس طرح کی ایک قرارداد لے کر آیا تھا لیکن وہ منظور نہیں ہوسکی تھی۔

خیال رہے کہ بھارت کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج اس وقت چین کے دورے پر ہیں جہاں پر انھوں نے ’رک‘ کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ اپنے چینی ہم منصب اور ملک کے صدر سمیت اعلٰی چینی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔

سیبل داس گپتہ کے مطابق رک کی کانفرنس میں تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ اس قرارداد کی حمایت کریں گے اور اقوامِ متحدہ پر بھی زور دیں گے کہ وہ اس کی حمایت کرے۔ اس قرارداد کو لانے کے پیچھے بھارت کا مقصد ان لوگوں تک رسائی ہے جو اس کے مطابق ممبئی پر ہونے والے حملے میں ملوث ہیں اور پاکستان میں موجود ہیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ اس بات کو بین الاقوامی برادری کے سامنے اٹھا کر پاکستان پر دباو بڑھایا جائے۔

بھارتی صحافی کا مزید کہنا تھا کہ چین اس بات کی اس لیے حمایت کر رہا ہے کیونکہ سنکیانگ اور تبت میں کارروائیاں کرنے والے لوگ دیگر ممالک میں چھپے ہوئے ہیں اور چین کا خیال ہے کہ وہ اس قرارداد کی مدد سے ان لوگوں کو واپس لا سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سشما سوراج کے دورے کے دوران دونوں ممالک میں دفاع، سرحدی تناضات اور تجارتی امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اپریل یا مئی میں چین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وزیرِ خارجہ سشما سوراج کا یہ دورہ اسی سلسلے میں تیاری کی ایک کڑی ہے۔

سشما سوراج کے دورے کے دوران دونوں ممالک میں دفاع، سرحدی تنازعات اور تجارتی امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

سیبل داس گپتہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات میں چین سلک روڈ کو بھی زیرِ بحث لایا۔

چین چاہتا ہے کہ سلک روڈ کے نام سے ایک ایسی روڈ بنائی جائے جو نا صرف پاکستان، چین، برما، بنگلا دیش کو ملائے بلکہ وسطی اشیا کی ریاستوں سے ہوتی ہوئی یورپ تک جائے۔ لیکن بھارت اور روس کے اس بارے میں تحفظات ہیں۔

دوسری جانب بھارت نے سلک روڈ کے معاملے پر غیر مشروط حمایت کے بجائے آسیان میں اپنے کردار کو بڑھانے کے لیے چین کی مدد طلب کی ہے۔

اسی بارے میں