’مودی کا دورۂ چین نتیجہ خیز ہو گا‘

Image caption چینی صدر نے گزشتہ برس بھارت کا دورہ کیا تھا

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی چین کا دورہ کریں گے اور ان کا یہ دورہ سرحدی تنازعے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت ہو گا۔

سشما سوراج چین کے دورے پر ہیں۔ انھوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے بات چیت کے بعد اعلان کیا کہ وزیر اعظم مودی 26 مئی کو اپنی حکومت کے ایک برس پورے ہونے سے قبل بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ تاہم ابھی کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

سشما سوراج نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’وزیر اعظم مودی اور صدر شی جن پنگ سرحدی تنازعے کو حل کرنے کے لیے مسلمہ راستوں سے ہٹ کر کوئی حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک میں اس وقت ایسی قیادت موجود ہے جرات مندانہ فیصلے کی اہلیت رکھتی ہے۔ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ سرحدی تنازعوں کی وراثت آنے والی نسلوں کو منتقل نہیں ہونی چاہيے۔ مجھے امید ہے کہ سرحدی تنازع حل کر لیا جائے گا۔‘

بھارتی وزیر خارجہ بیجنگ کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ ان کے اس دورے کو مودی کے دورے کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جنوری کے اواخر میں امریکہ کے صدر براک اوباما کے بھارت کے دورے پر چین میں بعض معاملات پر سخت ردعمل ہوا تھا۔ ان کے اس دورے کا مقصد بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کے بارے میں چین کی تشویش کو دور کرنا ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال بھی مودی کے دورے کی تیار ی کے سلسلے میں جلد ہی بیجنگ کا دورہ کریں گے۔

وزیر اعظم بننے کے بعدمودی نے ستمبر میں گجرات کے دارالحکومت احمدآباد میں چین کے صدر شی جن پنگ کی میزبانی کی تھی۔

بھارت اور چین کے درمیان تقریباً ساڑھے تین ہزار کلومیڑ لمبی سرحد ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1962 میں سرحدی تنازعے کے سبب جنگ ہو چکی ہے۔ تاہم اس کے بعد سے سرحد پر صورت حال پرسکون رہی ہے۔

لیکن حالیہ مہینوں میں چین کی فوج کی طرف سے کنٹرول لائن پر شمال مشرقی علاقوں اور لداخ سکٹر میں اکثر سرحدی خلاف ورزیوں کی خبریں ملی ہیں۔ پاکستان کے علاوہ نیپال، برما، بنگلہ دیش اور سر ی لنکا میں چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات پر بھی بھارت میں تشویش پائی جاتی ہے۔

بھارت اورچین نے اپنے سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کا ایک طریقہ کار وضح کر رکھا ہے اور گذشتہ برسوں میں مذاکرات کے کم از کم 17 دور ہو چکے ہیں، لیکن تنازعے کے حل کی سمت کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

بھارت اس وقت اپنی فوج کو بڑے پیمانے پر جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے گذشتہ دو برس میں چین کے ساتھ سرحد کی نگہبانی کے لیے تقریباً ایک لاکھ اضافی فوجی بھرتی کیے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بھارت چین کی سرحد کے پاس پکی سڑکیں اور دوسری سہولیات بھی تعمیر کر رہا ہے۔

اسی بارے میں