پاکستان کی افغانوں کے دل جیتنے کی کوشش

Image caption علامہ اقبال فیکلٹی آف فائن آرٹس میں افغانستان بھر سے 1600 طالب علم فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں

آزادی کے حصول کے لیے افغانوں کو کن کن مشکلات سے گزرنا پڑا، کابل یونیورسٹی کے چند طالب علم سٹیج پر اسے ڈرامائی صورت میں لوگوں تک پہنچانے کی مشق کر رہے ہیں۔

ایک لڑکا زخمی حالت میں زمین پر گرتا ہے جبکہ دوسرا پناہ کی تلاش میں دوڑ رہا ہے۔ دری زبان میں وہ کیا کہہ رہے ہیں، مجھے سمجھ نہ آئی لیکن ان کی چیخ پکار اور بھاگ دوڑ سے صاف سمجھ گیا کہ یہ ڈراما ان کی بحثیت قوم ماضیِ قریب کی تلخیوں کو یاد کروا رہا ہے۔

پاکستان شاید عمومی طور پر ان ممالک میں شامل ہو گا جو چاہے گا کہ کم از کم طالبان اور اس کے تعلقات کی حد تک تمام افغان ماضی کو بھول جائیں۔ اسی سوچ کے تحت کابل میں پاکستان افغانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے ساتھ ساتھ اس طرز کے ڈراموں کے انعقاد میں بھی مدد کر رہا ہے۔

کابل پوہنتون یا کابل یونیورسٹی میں یہ وہ سٹیج اور عمارت جہاں اس ڈرامے کی تیاری کی جا رہی ہے، ہمسایہ ملک پاکستان نے ہی تعیمر کر کے دیا ہے۔

کابل یونیورسٹی کی علامہ اقبال فیکلٹی آف فائن آرٹس میں افغانستان بھر سے 1600 طالب علم فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔

یہاں کی انتظامیہ نے بتایا کہ اس درس گاہ میں افغانوں کے لیے تعلیم اور رہائش بلکہ کھانے کا خرچ بھی افغان حکومت برداشت کرتی ہے۔ افغان طالب علم اس درس گاہ سے تعلیم حاصل کرکے عملی زندگی میں ٹھوس قدم رکھنے کے لیے پراعتماد ہیں۔ اس کے لیے وہ شکر گزار بھی ہیں۔

فورتھ ایئر کے حافظ اللہ احمدی یہاں ڈراما کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’اس فیکلٹی سے پڑھ کر میں بہت خوش ہوں۔ جلد ہی گریجویشن مکمل کرنے کے بعد میں بطور فنکار افغان معاشرے کے لیے کام کر کے اور اپنے ملک کی خدمت کر کے اس کا نام روشن کروں گا۔‘

Image caption افغانوں کو کن کن مشکلات سے گزرنا پڑا کابل یونیورسٹی کے چند طالب علم اسے ڈرامائی صورت میں لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں

اسی چیز کو سافٹ پاور کے ذریعے دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی کوشش کہا جاتا ہے۔ اس فیکلٹی میں 1600 طالب علم فنون لطیفہ کی مخلتف صنفوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ چاہے علامہ اقبال کی شاعری ہو، مصوری ہو یا مجسمہ سازی، یہ تمام ہنر یہیں سیکھنے کو مل رہے ہیں۔

تو اس ایک کروڑ ڈالر کے پاکستانی تحفے سے ان کی پاکستان کی جانب سوچ میں کوئی تبدیلی کیا آ رہی ہے؟

حبیب اللہ حبیب کابل یونیورسٹی کے رئیس ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہر افغان نوجوان کے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ یہ عمارت تعمیر کس نے کی ہے؟ میرے خیال میں یہ بہت اچھا اثر ڈالتی ہے۔ افغانستان کے پاکستان کے ساتھ بطور ایک دوست اور تاریخی ہمسایہ ملک اچھے تعلقات ہیں اور یہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔‘

واحد شکایت یہ سننے کو ملی کہ یہ عمارت پاکستان کے گرم موسم کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی ہے، کابل کی سردی کو نہیں۔ افغان حکام اب نہ صرف برآمدوں کو کھڑکیوں سے بند کر رہے ہیں بلکہ پانی کے پائپوں کو بھی پھٹنے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تعلیم کے ساتھ صحت بھی

ماضی کی غلطی سے سیکھنے کے بعد اب پاکستان صرف پشتون یا مشرقی علاقوں تک اپنی امداد محدود نہیں رکھ رہا۔ اس نے غیر پشتونوں سے بھی مراسم بڑھائے ہیں۔ شمالی علاقے بلخ میں مکمل یونیورسٹی، مشرقی علاقے جلال آباد میں ایک اور فیکلٹی جیسے ادارے قائم کر کے پاکستان تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبوں میں بھی بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

Image caption اب پاکستان صرف پشتون یا مشرقی علاقوں تک اپنی امداد محدود نہیں رکھ رہا

کابل کے مغرب میں دشت برچی نامی علاقے میں پاکستان کی مدد سے تعمیر کیے جانے والے 400 بستروں پر مشتمل جناح ہسپتال کی عمارت تقریباً مکمل ہے۔ پاکستانی سفارت خانے کے اختر منیر نے بتایا کہ یہ جدید ہسپتال اس سال مکمل کر لیا جائے گا اور اس میں بڑی بڑی بیماریوں کا علاج میسّر ہو گا۔ اس عمارت کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔ یہ ایک ایسا ملک تعمیر کر کے دے رہا ہے جہاں خود صحت کی سہولتوں کے بارے میں کئی سوالات جواب طلب ہیں۔

پاکستان یہ اخراجات ایک ایسے ملک میں برداشت کر رہا ہے جہاں طالبان کی حمایت کی وجہ سے پاکستان کو وہاں حکومتی سطح کے علاوہ عوامی سطح پر بھی شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ افغانوں کے دل و دماغ جیتنے کے لیے پاکستان اب نہ صرف اپنے آپ کو افغانستان میں سیاسی طور پر غیرجانبدار ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ گذشتہ ایک دہائی سے افغانوں کی فلاح پر پر لاکھوں ڈالر بھی خرچ کر رہا ہے۔

ان 50 کروڑ ڈالر سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوسکتا ہے؟

کابل میں پاکستان کے سفیر سید ابرار حسین کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں افغان عوام کی سوچ میں واضح فرق آ رہا ہے: ’ان بڑے منصوبوں سے لوگوں کی سوچ میں یقیناً تبدیلی آ رہی ہے۔ اب یہ منصوبے کسی نسل یا علاقے کی بنیاد پر نہیں شروع کیے جاتے۔‘

دل و دماغ جیتنے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کرنا بھی ضروری ہے لیکن امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں وہ سیاسی و عسکری غلطیاں نہیں دوہرائی جائیں گی جو اس ’سافٹ پاور‘ کے ذریعے حاصل کی گئی ساکھ اور جذبات پر پانی پھیر دے۔

اسی بارے میں