’گانوں سے ’’بمبئی‘‘ کا لفظ نکال دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ممبئی بھارت کی مالیاتی اور ثقافتی مرکز ہے

سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر خواتین کی حفاظت کے بارے میں ایک گانے پر بحث چھڑ گئی ہے جس میں ملک کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی کا نام استعمال کیا گیا ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے وکاس پانڈے نے گلوکار مہر جوشی سے مل کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایسی کیا بات تھی جس نے ان کے گانے کو متنازع بنا دیا۔

بھارت کے فلم سنسر بورڈ نے حال ہی میں وکاس جوشی کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گانوں میں سے بمبئی کا لفظ نکال دیں۔

سنہ 1995 میں دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے پرزور مہم کے بعد ملک کے مالیاتی دارالحکومت کا نام بمبئی سے بدل کر ممبئی کر دیا گیا تھا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ لفظ بمبئی نوآبادیاتی دور کی علامت تھا اور ان کے شہر کے نام کو مقامی ثقافت اور زبان کی نمائندگی کرنی چاہیے۔

وکاس جوشی نے گذشتہ سال اپنی البم ’ممبئی بلیوز‘ جاری کی تھی اور حال ہی میں ایک انٹرٹینمنٹ کمپنی نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن سے رابطہ کیا تا کہ انھیں وکاس کے ایک گانے کی وڈیو بنانے کی اجازت مل سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
Image caption سنسر بورڈ کے فیصلے سے کئی لوگ متفق نہیں ہیں اور اپنی ناراضی کا اظہار Bombay# سے کر رہے ہیں

بورڈ نے منظوری تو دے دی لیکن ساتھ ہی حکم بھی صادر کر دیا کہ جہاں جہاں لفظ بمبئی آیا ہے وہاں ’بیپ‘ کی آواز لگا دی جائے۔

وکاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا گانا ’کہیں سے بھی جارحانہ نہیں ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ گانا ایک باپ کے بارے میں ہے جو اپنی بیٹی کو کسی بھی شہر، دہلی یا بمبئی میں محفوظ نہیں رکھ سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mihir Joshi
Image caption وکاس جوشی اپنے گانے پر ہونے والے تبصرے پر ’پریشان‘ ہیں

خواتین کی حفاظت کا مسئلہ سنہ 2013 سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جب ایک 23 سالہ خاتون کا ایک چلتی ہوئی بس میں ریپ اور قتل ہوا تھا۔

وکاس نے کہا: ’باقی لوگوں کی طرح میں بھی خواتین کے تحفظ کے مسئلے کے بارے میں بہت پریشان ہوں اور میں نے سوچا کہ میں اس کے بارے میں ایک گانا لکھوں، لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ بمبئی کا لفظ استعمال کرنے سے میرے گانے کے بنیادی پیغام کو بھول کر اس لفظ پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔‘

تو پھر سنسر بورڈ نے گانا سنسر کیوں کیا؟

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بورڈ نے یہ حکم دائیں بازو کے گروپوں کی طرف سے سخت ردعمل سے بچنے کے لیے دیا ہے۔

بھارت کا سنسر بورڈ اکثر تنازعات کی زد میں رہتا ہے، حتیٰ کہ حال ہی میں اس کے نئے سربراہ کی تقرری پر بھی خاصی لے دے ہوئی تھی۔

پہلاج نیہالانی نے سنسر بورڈ کے حکم کے دفاع میں کہا کہ گانے کے بولوں میں بمبئی کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔

وکاس جوشی کا کہنا ہے کہ یہ الگ بات ہے کہ لوگوں کو ان کا گانا نہ پسند آئے، لیکن فن کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں