ٹاٹا کا نصب العین اچھے خیالات، اچھے الفاظ اور اچھے اعمال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ٹیٹلی چائے سے لے کر جیگوار لینڈ روور جیسی مقبول گاڑیاں بنانے والی بھارتی کمپنی ٹاٹا کو، جس کے کاروبار کا 66 فیصد حصہ خیراتی اداروں کی ملکیت ہے، اپنی کاروباری اخلاقیات پر فخر ہے۔

کمپنی کے منفرد کردار کی تشکیل میں اس کے بانی جمشید جی اور ان کے جانشینوں کی محنت شامل ہے۔

کہا جاتا ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں بھارتی کاروباری شخصیت جمشید جی ٹاٹا کو ممبئی کے ایک مہنگے ہوٹل میں ان کی رنگت کی وجہ سے داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

جمشید جی پر اس واقعے کا بہت گہرا اثر ہوا اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس ہوٹل سے بہتر ہوٹل بنائیں گے جس میں بھارتی شہریوں کو بھی آنے کی اجازت ہو گی۔

اس طرح 1903 میں ممبئی کے ساحل پر تاج محل ہوٹل کا قیام عمل میں آیا۔ یہ شہر کی پہلی عمارت تھی جس میں بجلی، امریکن پنکھے اور جرمن لفٹوں جیسی سہولیات فراہم کی گئی تھیں اور اس میں انگریز خانسامے کام کرتے تھے۔

جمشید جی 1839 میں ایک پارسی خاندان میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے آبا و اجداد میں سے کئی زرتشت مذہب کے مذہبی پیشوا تھے۔

انھوں نے کپاس، چائے، تانبے، پیتل اور افیون (جس کا کاروبار اس وقت غیر قانونی نہیں تھا) میں خوب پیسہ بنایا۔

وہ ایک جہاں گرد شحص تھے اور نئی ایجادات سے کافی متاثر ہوتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 1903 میں ممبئی کے ساحل پر تاج محل ہوٹل نے کا قیام عمل میں آیا

برطانیہ کے ایک دورے کے دوران لنکاشائر میں کپاس کی ملوں کے مشاہدے سے انھیں یہ احساس ہوا کہ بھارت اس کاروبار میں اپنے نوآبادیاتی آقاؤں کے ساتھ مقابلہ کر سکتا ہے۔ لہٰذا 1877 میں جمشید جی نے مہارانی ملز کے نام سے ملک کی پہلی ٹیکسٹائل ملِ کھولی۔ مہارانی مل کا افتتاح اسی روز ہوا جس دن ملکہ وکٹوریا کی بھارت کی ملکہ کے طور پر تاج پوشی ہوئی تھی۔

جمشید جی کے بھارت کی ترقی کے لیے نظریے کو ہندی لفظ ’سوادیشی‘ سے سمجھا جا سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ’بھارت میں بنا ہوا۔‘ یہی خیال انیسویں صدی کے اوائل میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا حصہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’کسی قوم کی ترقی کے لیے کمزور ترین اور سب سے زیادہ بے بس لوگوں کو سہارا دینے کے بجائے ضروری ہے کہ سب سے زیادہ لائق اور خداداد قابلیت کے حامل لوگوں کی مدد کی جائے تاکہ وہ اپنے ملک کی خدمت کر سکیں۔‘

ان کا سب سے بڑا خواب سٹیل کا کارخانہ بنانا تھا لیکن وہ اس خواب کی تعبیر سے پہلے ہی وفات پاگئے۔

جمشید جی کے بیٹے دہورب نے اپنے والد کی وفات کے بعد ان کا خواب پورا کیا اور 1907 میں ’ٹاٹا سٹیل‘ نے پیداوار شروع کر دی۔ بھارت ایشیا کا پہلا ملک بن گیا جس میں سٹیل کا کارخانہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES

ایک برطانوی اہلکار نے ٹاٹا سٹیل پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ سٹیل کی پیداوار لوگوں کے کھانے کے کام آئے گی، لیکن جب پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی تو ٹاٹا نے ریلوے کی پٹری بچھانے کے لیے سٹیل فراہم کیا جو برطانوی مہم کے لیے بہت اہم تھی۔

جمشید جی نے اپنے بیٹے دوراب کو خط کے ذریعے ایک صنعتی شہر آباد کرنے کی ہدایات دیں تھیں، جن میں کہا تھا: ’اس شہر کی سٹرکیں کشادہ ہونی چاہییں، اس میں درخت، کھیلوں کے میدان، پارک اور مذہبی عبادت گاہوں کے لیے بھی جگہ مخصوص کی جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹاٹا سٹیل جمشید پور

ان کی اس ہدایت کا نتیجہ جمشید پور ہے۔

ٹاٹا نے کسی قانونی پابندی کے بغیر خود ہی اپنے ملازمین کی بہبود کے لیے پالیسیاں متعارف کرائیں جن میں 1877 میں پینشن، 1912 میں آٹھ گھنٹے اوقات کار اور 1921 میں ماں بنے والی خواتین کے لیے مراعات شامل ہیں۔

یہ ان کی اس سوچ کی عکاسی کرتا تھا جس کا اظہار انھوں نے ایک بار ان الفاظ میں کیا تھا: ’ کاروبار کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاشرے کی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کرے۔‘

انھوں نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام کے لیے سرمایہ فراہم کیا تا کہ ملک کی ترقی کے لیے انجینیئر اور سائنس دان پیدا کیے جا سکیں۔

جمشید جی اور ان کے بیٹوں نے اپنی کمپنی ’ٹاٹا سنز‘ کے 66 فیصد حصص فلاحی ٹرسٹ کے نام کر دیے جس کا مقصد فلاحی کاموں کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی تھی۔

ان کا خاندان اب کمپنی کے صرف تین فیصد حصے کا مالک ہے، جب کہ باقی حصہ دیگر کمپنیوں اور شراکت داروں کی ملکیت ہے۔

ٹاٹا خاندان کے ایک اور فرد جہانگیر ٹاٹا 1938 میں 34 سال کی عمر میں کمپنی کے چیئرمین بنے اور نصف صدی تک اس عہدے پر فائز رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جے آر ڈی کو پائلٹ بننے کا شوق ’لوئیس بلو رائٹ‘ کو دیکھ کر ہوا

انھیں صنعت کار بننے سے زیادہ پائلٹ بننے کا شوق تھا، جو انھیں ’لوئیس بلو رائٹ‘ سے ملنے کے بعد پیدا ہوا تھا جو رودبارِ انگلستان کے اس پار پرواز کرنے والے پہلے پائلٹ تھے۔

جے آر ڈی ممبئی فلائنگ کلب سے بھارت میں پائلٹ کی تربیت مکمل کرنے والے پہلے شخص تھے۔ ان کے ہوائی لائسنس کا نمبر 1 تھا جس پر ان کو بہت فخر تھا۔

انھوں نے بھارت کی پہلی ہوائی ڈاک سروس شروع کی اور اکثر ڈاک کے ساتھ کسی مسافر کو بھی لے جاتے تھے۔

بعد میں یہ ہی ڈاک سروس بھارت کی پہلی ایئر لائن، ’ٹاٹا ایئرلائن‘ بن گئی جس کا کچھ عرصے بعد نام بدل کر ’ایئر انڈیا‘ رکھ دیا گیا۔

شروع میں ایئر انڈیا حکومت اور ٹاٹا کی مشترکہ ملکیت تھی مگر بعد میں اسے حکومت نے اپنی ملکیت میں لے لیا۔

حکومت نے جے آر ڈی کو ایئر انڈیا کا چیئرمین بنا دیا اور وہ 1978 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

1968 میں انھوں نے اپنے خاندان کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسے کاروبار کا آغاز کیا جو ترقی یافتہ ممالک سے منسوب کیا جاتا تھا یعنی کمپیوٹر سے متعلقہ کاروبار۔

’ٹاٹا کینسلٹنسی سروسز‘ یا ’ٹی سی ایس‘ نامی یہ کمپنی دنیا بھر میں سافٹ ویئر سپلائی کرتی ہے، اور یہ اس وقت بھی ٹاٹا گروپ میں سب سے زیادہ منافح بخش کمپنی ہے۔

1991 میں ان کے ایک دور کے رشتہ دار رتن ٹاٹا نے کمپنی کی باگ ڈور سنبھالی اور ان کی قیادت میں ٹاٹا نے دنیا بھر میں اپنے کاروبار کو بڑھایا۔ ٹاٹا نے ٹیٹلی چائے، اے آئی جی انشورنس کمپنی، بوسٹن میں رٹز کارلٹن، ڈائیوو کی بھاری گاڑیاں بنانے والا یونٹ اور کورس سٹیل یورپ جیسی کمپنیاں خریدیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 2009 میں رتن نے دنیا کی سب سے سستی کار مارکیٹ میں متعارف کروا کر اپنا دیرینہ خواب پورا کیا

اگرچہ ٹاٹا بھارت کا سب سے بڑا کاروباری گروپ بن گیا مگر دوسرے صنعت کاروں کے مقابل میں ٹاٹا خاندان کے لوگ ہمیشہ سے بہت منکسر المزاج رہے ہیں۔

جے آر ڈی کمپنی کے ہیڈکوارٹر کے پاس ایک کرائے کے گھر میں رہتے تھے اور رتن خود گاڑی چلا کر کام پر آتے تھے۔

2009 میں رتن نے دنیا کی سب سے سستی کار مارکیٹ میں متعارف کروا کر اپنا دیرینہ خواب پورا کیا۔ ’نینو‘ نامی اس کار کی قیمت ایک لاکھ روپے تھی۔

رتن کی امیدوں کے برعکس یہ کار صارفین میں زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکی۔

ٹاٹا گروپ ہر سال تقریباً 20 کروڑ ڈالر فلاحی کاموں پر خرچ کرتا ہے۔

ٹاٹا سٹیل جھارکھنڈ کی ریاست میں واقع جمشید پور میں بہت سے فلاحی کام کرتی ہے۔ مگر کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں بڑھتی ہوئی صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

صحافی دیویا گپتا کا کہنا ہے کہ وہ جمشید پور کے مرکزی دریا میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے بارے میں فکر مند ہیں۔

’اس آلودگی کا تمام تر الزام ہم ٹاٹا پر تو نہیں لگا سکتے مگر یقیناً جمشید پور میں ٹاٹا کا صنعتی یونٹ سب سے بڑا ہے۔‘ دیویا نے جب آلودگی کا مسئلہ ٹاٹا کے سامنے اٹھایا تو ان کا جواب تھا کہ ’دریا ہماری ملکیت نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کمپنی کا موقف ہے کہ کیمیکلز یا سٹیل کی صنعت اور کان کنی ماحول کو متاثر کیے بغیر نہیں کی جاسکتی

دیویا کا کہنا ہے کہ وہ اس جواب سے بہت مایوس ہوئی ہیں۔

دوسری جانب کمپنی کا موقف ہے کہ کیمیکلز یا سٹیل کی صنعت اور کان کنی ماحول کو متاثر کیے بغیر نہیں کی جا سکتی، مگر ٹاٹا ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ ماحول پر کم سے کم منفی اثرات پڑیں اور جہاں تک ممکن ہوتا ہے کمپنی ماحولیاتی بہتری کے لیے اقدامات اٹھاتی ہے۔

ایک اور تنازع اس وقت سامنے آیا جب عالمی معاشی بحران کے بعد ٹاٹا نے اعلان کیا کہ وہ یورپ میں اپنے سٹیل کے کاروبار کے حصص بیچنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔

اس پر برطانیہ میں مزدور تنظمیوں نے ٹاٹا پر الزام لگایا کہ ٹاٹا اپنی سابقہ اقدار بھول گئی ہے۔ اس کے جواب میں ٹاٹا کے چیئرمین خود برطانیہ آئے اور انھوں نے یقین دلایا کہ اس معاملے پر مزدور تنظیموں سے مشاورت کی جائے گی۔

ٹاٹا کا موقف ہے کہ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اقتصادی ترقی ہی ہماری اقدار کی ضامن ہے۔

2012 میں رتن نے ٹاٹا کمپنی کی قیادت سائرس مستری کے حوالے کر دی جن کا تعلق ٹاٹا خاندان سے صرف شادی کی وجہ سے ہے۔

اب بھی ٹاٹا کمپنی کا عزم زرتشتی عقیدے کے الفاظ ’ہماتا،‘ ’ہکوتا‘ اور ’ہوارشتا‘ ہیں، جن کا مطلب ہے اچھے خیالات، اچھے الفاظ، اور اچھے اعمال۔

اسی بارے میں