دہلی انتخابات: ووٹنگ جاری، ’مودی کے لیے پہلا بڑا چیلنج‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP and AP
Image caption بی جے پی کی کرن بیدی اور عام پارٹی کے کیجروال میں سخت مقابلہ متوقع ہے

بھارتی دارالحکومت دہلی کی 70 رکنی اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالے جار رہے ہیں اور ماہرین کے مطابق یہ وزیراعظم مودی کی مقبولیت کو پہلا بڑا چیلنج ہے۔

بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ جنوبی اور وسطی دہلی کے بہت سے پولنگ سٹیشن ابتدا میں خالی تھے لیکن وقت کے ساتھ وہاں لوگوں کی تعداد میں اضافہ نظر آ رہا ہے۔

دہلی میں مجوعی طور پر ایک کروڑ 30 لاکھ ووٹرز ہیں۔ ووٹ ڈالنے کا پورا عمل مشینوں کے ذریعے ہو گا اور اس میں کسی کو بھی ووٹ نہ دینے کا بٹن بھی شامل ہو گا۔

شہر میں 12 ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور انتخابی نتائج کا اعلان منگل کو کیا جائے گا۔

دہلی میں انتخابات کے موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور حکام کے مطابق سنیچر کو 55 ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی دیں گے۔

ملک میں حکمراں جماعت نے سابق پولیس افسر کرن بیدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے تاہم رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انھیں ملک میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے کارکن اور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال سے شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کرن بیدی بی جے پی میں جانے سے پہلے اروند کیجریوال کی انسداد بدعنوانی مہم میں ان کے ساتھ شامل تھیں۔

بی جے پی نے آخری دنوں میں کیجریوال کی پرانی ساتھی کرن بیدی کو ساتھ ملا لیا ہے۔

حالیہ ماہ میں حکمراں جماعت نے کئی ریاستوں کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم نامہ نگاروں کے مطابق اسے دارالحکومت دہلی میں سخت مقابلے کا سامنا ہو گا جہاں رائے عامہ کے کئی جائزوں میں عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال کو سبقت حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس الیکشن نے وزیرِ اعلی کے لیے پارٹی کی امیدوار کرن بیدی کے بجائے مودی بنام کیجریوال کی شکل اختیار کر لی

جائزوں کے مطابق دہلی پر سال 2013 تک مسلسل 15 سال تک حکمرانی کرنے والی کانگریس جماعت تیسری پوزیشن پر رہے گی۔

دہلی میں گذشتہ سال فروری میں اروند کیجریوال کے وزیراعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد سے حکومت نہیں ہے۔

انھوں نے اس وقت بدعنوانی کے خلاف قانون سازی کا بل پارلیمنٹ سے منظور نہ ہونے کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔

انھوں نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران وزارتِ اعلٰی سے مستعفی ہونے کے اپنے فیصلے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اس مرتبہ اپنے ووٹروں سے اپنی مدت پوری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

انتخابات میں کرن بیدی اور کیجروال کے درمیان اصل مقابلہ ہو گا۔ دونوں سابق سرکاری ملازمت میں رہ چکے ہیں جس میں کرن ملک کی پہلی پولیس افسر تھیں جبکہ کیجروال ریونیو کے محکمے میں کام کرتے تھے۔

اسی بارے میں