بھارت میں گرجا گھروں پر حملوں سے عیسائی خوفزدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہلی میں گرجا گھروں پر حملوں کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد میں سے بعض کو گرفتار بھی کیا گیا

’میں بہت پریشان ہوں اور مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘ یہ الفاظ 47 سالہ عیسائی خاتون لینی کروبلا کے ہیں۔

انھوں نے ہاتھ میں ایک کتبہ اٹھا رکھا تھا:’مجھے ایک بھارتی عیسائی ہونے پر فخر ہے۔‘

لینی ان سینکڑوں عیسائی افراد میں شامل تھیں جو دہلی میں حالیہ کئی عیسائی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

لینی نے اس سے پہلے کبھی کسی مظاہرے میں حصہ نہیں لیا ہے۔ لیکن اس بار وہ کہتی ہیں کہ انہیں سلامتی کے خدشات کے سبب احتجاج کے لیے باہر آنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

’اپنے خدا کی عبادت کرنا میرا بنیادی حق ہے لیکن اس کا تحفظ حاصل نہیں ہے‘۔

لینی کے ساتھ پر امن احتجاج میں ایک اور خاتون سینسی بھی شامل ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’اب ہم آزادی کے ساتھ عبادت نہیں کر سکتے ۔ ہماری عبادت پر بھی اب سیاست کی جا رہی ہے۔‘

دہلی اور ملک کی کئی دیگر ریاستوں میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے سے عیسائیوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔

گذشتہ دنوں دہلی کے جنوبی علاقے وسنت کنج میں واقع سینٹ ایلفونسا چرچ میں تخریب کاری کے بعد عیسائیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ دو مہینے میں یہ دہلی میں پانچواں چرچ تھا جس میں پراسرار طریقے سے رات میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

چند ہفتے قبل شہر کے دلشاد گارڈن میں ایک بڑا چرچ جل کر راکھ ہو گیا تھا۔ پولیس آج تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ۔

وسنت کنج کے چرچ میں تخریب کاروں نے چرچ کے تبرکات اور عبادت کے ساز وسامان زمین پر پھینک دیے تھے اور پیسے اور کئی قیمتی اشیا کو ہاتھ نہیں لگایا گیا تھا لیکن پولیس کا کہنا ہے یہ چوری کا معاملہ ہے۔

عیسائی برادری کو شک ہے کہ عبادت گاہوں پر حملے میں سخت گیر ہندو تنظیموں کا ہاتھ ہے۔

بھارت میں عیسائیوں کی آبادی تقریباً تین فیصد ہے۔ انھیں صرف گرجا گھروں پر ہونے والے حملے پر ہی تشویش نہیں ہے۔ وہ حال میں بہار میں ہونے والے جبری تبدیلیِ مذہب کے واقعے سے بھی گھبرائے ہوئے ہیں۔

بہار میں تقریباً 40 عیسائی خاندانوں کو ’گھر واپسی‘ کے نام پر دوبارہ ہندو بنایا گیا۔ اس واقعے نے عیسائیوں میں خوف پیدا کر دیا۔

حقوق انسانی کے قومی کمیشن نے وزارتِ داخلہ سے کہا ہے کہ وہ دارالحکومت میں گرجا گھروں میں رونما ہونے والے تحقیقات کرائے۔

جمعرات کو سینکڑوں عیسائیوں نے اپنے مذہبی اداروں پر حملوں کے خلاف دہلی میں احتجاج کیا۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان واقعات میں کوئی گرفتاری کیوں نہیں ہو رہی ہے۔

دہلی کے پولیس کمشنر بی ایس بسی نے یقین دلایا کہ پولیس کسی طرح کی جانبداری سے کام نہیں لے رہی ہے۔

Image caption دہلی میں گذشتہ دو ماہ کے دوران پانچ گرجا گھروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے

انھوں نے کہا:’ہمارے اوپر کہیں سے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا ہے اور نہ ہی ہم پر کوئی دباؤ ڈال سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ شہر کے گرجا گھروں کی حفاظت کے لیے ان کے نزدیک پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔

جمعے کو امریکہ کے صدر براک اوبامانے وائٹ ہاؤس سے بھارت میں مذہبی عدم رواداری کے حالیہ واقعات پر کہا تھا کہ ’اگر مہاتما گاندھی ہوتے تو عدم رواداری کے ان واقعات پر وہ سکتے میں آ گئے ہوتے۔‘

عیسائیوں کے ایک ترجمان نے ان حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مودی حکومت ایک چھوٹی سی مذہبی اقلیت کے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتی تو وہ پورا ملک کیسے چلائیں گے۔

وزیراعظم مودی اور ان کی جماعت بی جے پی نے ان واقعات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں