ڈرون حملے میں دولتِ اسلامیہ کے افغان کمانڈر ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ IS
Image caption ذشتہ مہینے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملا عبدالروؤف نے طالبان کے ساتھ اختلافات کے بعد دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا اظہار کیا تھا

افغانستان میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں دولتِ اسلامیہ سے حال ہی میں وفاداری کا اظہار کرنے والے شدت پسند ملا عبدالرؤوف ہلاک ہوگئے ہیں۔

ہلمند صوبے کے پولیس سربراہ نبی جان ملاخیل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ سابق طالبان کمانڈر ملا عبدالرؤوف ڈرون حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

گذشتہ مہینے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملا عبدالروؤف نے طالبان کے ساتھ اختلافات کے بعد دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا اظہار کیا تھا۔

شمالی ہلمند صوبے میں مقامی اکابرین نے بتایا کہ ایک کار جس میں چھ افراد سوار تھے صحرا سے گرتے ہوئے اس حملے کا شکار ہوئی اور مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق کار میں دھماکہ خیز مواد لدا ہوا تھا جو پھٹ گیا۔

افغانستان میں نیٹو کے حکام نے ابھی تک ملا عبدالروؤف کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ملا عبدالروؤف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نمروز صوبے کے گورنر امیر محمد کے دور پار کے رشتہ دار ہیں۔

ملا عبدالروؤف نے 2001 میں گرفتاری کے بعد چھ برس تک گوانتانامو بے کے قید خانے میں بھی گزارے تھے مگر بعد میں ان کے طالبان کے رہنما ملا عمر سے اختلافات شروع ہو گئے۔

انھوں نے اس کے بعد طالبان کے سفید جھنڈے کی جگہ دولتِ اسلامیہ کے سیاہ جھنڈے لگائے اور دولتِ اسلامیہ کے لیے شدت پسندوں کی بھرتی کا آغاز کیا۔

ملا عبدلروؤف کو دولتِ اسلامیہ کی قیادت نے اپنے نئے صوبے خراسان کا نائب رہنما مقرر کیا گیا تھا جو جہادیوں کی تاریخی اصطلاح سے مستعار لی گئی ہے جو اس خطے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جس میں دولتِ اسلامیہ کے مطابق افغانستان، پاکستان اور اس کے آس پاس کے علاقے شامل ہیں۔

دولتِ اسلامیہ نے اس نئے صوبے یا شاخ کے رہنما حافظ سعید خان کو کمانڈر مقرر کیا ہے۔ حافظ سعید خان بھی ایک سابق طالبان کمانڈر ہیں۔

حافظ سعید نے ایک ویڈیو کے ذریعے اس صوبے کے قیام کا اعلان کیا جس میں اُن کے ساتھ دس جہادی کمانڈر شامل تھے جن کا تعلق افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا جنہوں نے اُن سے وفاداری کا عہد کیا۔

اس ویڈیو میں ایک پاکستانی فوجی کا سر قلم کرنے کی ویڈیو بھی شامل تھی۔

اسی بارے میں