کشمیری مظاہرین پر فائرنگ، نوجوان ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیر کے روز وادی میں ہڑتال اور مظاہروں کی کال علیحدگی پسندوں نے دی تھی

ہڑتال اور سخت ناکہ بندی کے دوران شمالی کشمیر کے پلہالن گاؤں میں مظاہرین پر فائرنگ کے ایک واقعہ میں سترہ سالہ فاروق احمد ہلاک جبکہ دوسرا نوجوان شدید زخمی ہوگیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین پولیس کی ایک گاڑی پر حملہ کرنے والے تھے، کہ ذاتی دفاع میں اہلکاروں نے فائرنگ کی جس کی زد میں آکر فاروق احمد ہلاک ہوگیا۔ تاہم فاروق کے بھائی طارق احمد کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران فاروق ایک باغ میں کرکٹ کھیل رہا تھا۔

فاروق گیارہویں جماعت کا طالب علم ہے اور غلام محمد بٹ نامی ایک مزدور کا بیٹا ہے۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ اس معاملہ کی تحقیقات کی جائے گی، تاہم اس ہلاکت سے کشمیر میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

واضح رہے دو سال قبل دلّی کی تہاڑ جیل میں سزائے موت پانے والے کشمیر ی افضل گورو کی لاش اور دیگر باقیات کشمیریوں کے سپرد کرنے کے حق میں پیر کے روز وادی میں ہڑتال اور مظاہروں کی کال علیحدگی پسندوں نے دی تھی۔ مظاہروں کو روکنے کے لئے جگہ جگہ ناکہ بندی کی گئی تھی، لیکن لال چوک میں بعض سیاسی کارکنوں نے ہند مخالف مظاہرے کئے۔

حکومت نے علیحدگی پسند رہنماؤں اور ان کے ساتھیوں کو کل رات ہی گرفتار کرکے مختلف جیلوں میں قید کرلیا تھا، تاہم ہڑتال اور ناکہ بندی کے بیچ رکن اسمبلی انجنئیر عبدالرشید کی تنظیم عوامی اتحاد پارٹی کے کارکنوں نے افضل گورو کی پھانسی کی دوسری برسی پر سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

چوالیس سالہ محمد افضل گورو کو سن دو ہزار تیرہ میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش میں ملوث پاکر نوفروری کی صبح خفیہ طور پر دلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی۔انھیں جیل احاطے میں ہی دفنایا گیا۔ اس واقعہ سے کشمیر میں سنسنی پھیل گئی اور دو ہفتوں تک مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جسکے دوران پولیس کاروائی میں کئی نوجوان مارے گئے۔

اسی بارے میں