بھارتی مسلمان داعش کی جانب مائل کیوں نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ

امریکہ دنیا کےدوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر انتہا پسند نظریات کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

انتہا پسند نظریات کو چیلنج کرنے کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ دنیا کےمختلف علاقوں اور ملکوں میں مختلف تنظمیں نفرت اور تشدد کو فروغ دینےکےلیے مذہب کا سہارا لے رہی ہیں۔

انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت اس لیے بھی اور شدید ہو گئی ہے کہ ہزاروں یورپی نوجوان عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ یعنی آ‏ئی ایس آئی ایس کے سنی دہشت گردوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی ادارے آئی سی ایس آر کے تازہ ترین مطالعے کے مطابق عراق اور شام میں اس وقت 20 ہزار سے زیادہ غیر ملکی عسکریت پسند دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

اس جائزے میں بتایا گیا ہےکہ کم از کم 50 ملکوں کے جنگجو نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے علاقوں میں برسرِپیکار ہیں ۔ ان میں مغربی ملکوں کے تقریباً چار ہزار نوجوان بھی شامل ہیں۔

اس مطالعے کے مطابق یورپ کے تین بڑے ملکوں فرانس، برطانیہ اور جرمنی سے سب سےزیادہ جنگجو عراق اورشام گئے۔

مختلف ذرائع سےموصول ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق فرانس کے 1200، برطانیہ کے500 اور جرمنی کے500 نوجوان آئی ایس کی طرف مائل ہو ئے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غربی ممالک کے مسلمان نوجوان لرکے اور لڑکیاں دولتِ اسلامیہ سے متاثر ہو رہے ہیں

عراق اور شام میں غیرملکی دہشت گردوں میں سب سے زیادہ 3000 دہشت گرد تیونس کے ہیں ۔ اسی طرح سعودی عرب کے 1500 سے 2500 جنگجو شورش زدہ خطےمیں لڑرہے ہیں ۔

اردن ، چیچنیا اور لبنان کے بھی سیکڑوں نوجوان عراق میں آئی ایس کی قتل و غارت گری میں شریک ہیں اور پاکستان کے بھی 500 نوجوان اس سنی دہشت گردتنظیم میں شامل ہو چکے ہیں

18 کروڑ کی آبادی کے ساتھ بھارت پوری دنیا میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی والے ملکوں میں شامل ہے لیکن آئی سی ایس آر کی رپورٹ کے مطابق 18 کروڑ مسلمانوں میں سے ایک بھی بھارتی مسلمان عراق اور شام کے دہشت گردوں کے ساتھ شریک نہیں ہے ۔

دہشت گردی کےحوالے سے بھارت کے مسلمانوں کی طرف عالمی توجہ چند برس قبل پہلی بار اس وقت مبذول ہوئی جب یہ محسوس کیا گیا القاعدہ میں دنیا کے درجنوں ممالک کے دہشت گرد شامل ہیں لیکن وہ بھارت کے مسلمانوں کو اپنے پرتشدد تصورات کی طرف مائل نہ کر سکی۔

بھارت خود بھی ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں ملک کےمختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کےلیے عموماً چند پاکستانی تنظیموں کا ہاتھ بتایا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارتی مسلمانوں کی بھی ایک دہشت گرد تنظیم سامنے آئی ہے جس کے مقاصد ، فنڈنگ اور ڈھانچہ پراسرار رہا ہے۔

بھارت میں دنیا کے بہت سےدوسرے ملکوں کی طرح اسلام کے کئی مکاتب فکر ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی تنظیم اور مذہبی گروپ اور ادارہ انتہا پسند نظریات کو فروغ نہیں دیتا۔

بھارت کے تمام مذہبی ادارے اجتماعی طور پر ماضی میں کئی بار ہر طرح کی دہشت گردی اور تشدد کی مذمت کرچکے ہیں اور اسے غیر اسلامی فعل قرار دیتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 25 برس تک جاری رہنے والی کشمیر کی عسکری تحریک میں کسی بھی مرحلے پرکسی بھی شکل میں بھارت کا ایک بھی مسلمان بھی شریک نہیں ہوا

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پر تشدد علیحدگی پسندی کی تحریک 25 برس سے چلی آ رہی ہیں جس کےدوران ہزاروں لوگ مارےگئے۔

یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ 25 برس تک جاری رہنے والی کشمیر کی عسکری تحریک میں کسی بھی مرحلے پر کسی بھی شکل میں بھارت کا ایک بھی مسلمان بھی شریک نہیں ہوا۔

بھارت کا مسلمان بھی دنیا کےکسی بھی ملک کے شہریوں کی طرح حساس ہے اور ملک اور دنیا میں ہونے والے واقعات کا اس پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے لیکن اپنی تمام خامیوں اور کمیوں کے ساتھ بھارت کی جمہوریت اور ملک کا اجتماعی شعور بھارت کے مسلمانوں میں ایک مثبت سوچ پیدا کرتا ہے۔

غربت، افلاس، ہر طرح کے دباؤ اور چیلنجز میں بھی وہ مسائل کے جمہوری حل پر یقین رکھتا ہے ، تشدد اور انتہا پسندی نہیں اور یہ مثبت سوچ عام بھارتی مسلمانوں کے شعور کا محور ہے ۔

اسی بارے میں