صوبہ زابل میں بسوں میں سوار ہزارہ برادری کے 30 افراد اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اغوا کرنے والے کون ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو جنوبی علاقے میں اقلیتی ہزارہ برادری کے 30 افراد کو اغوا کرلیا گیا ہے۔

یہ لوگ بس سے ملک کے جنوبی علاقے میں سفر کر رہے تھے جب ان کو اغوا کیا گیا۔

زابل صوبے کے گورنر محمد اشرف نے بتایا کہ ایک اہم شاہراہ سے دو بسوں میں سوار 30 افراد کو اغوا کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح نقاب پوش افراد نے زابل کے صوبے میں افغان دارالحکومت کابل اور قندھار کے درمیان والی شاہراہ پر دو بسوں پر مشتل ایک قافلے کو زبردستی روک کر یہ کارروائی کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق انھوں نے مردوں کو اغوا کر لیا اور اپنے ساتھ لے گئے لیکن خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیا۔

ایک مقامی اہلکار عبدالخالق ایوبی نے بتایا کہ تمام بندوق برداروں نے سیاہ لباس اور نقاب پہن رکھے تھے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اغوا کرنے والے کون ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔

خیال رہے کہ زیادہ تر ہزارہ برادری کے افراد شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور اس واقعے سے ملک میں شیعہ برادری کے خلاف بڑھتے تشدد کے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان میں ہزارہ برادری کی تعداد کل آبادی کا نو فی صد ہے اور اس برادری کو طالبان اور سنی انتہا پسندوں کے تشدد کا سامنا رہتا ہے۔

اسی بارے میں