’بی جے پی پہلی مرتبہ کشمیر میں حکومت بنائے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر میں حکومت سازی میں تاخیر کے بعد گورنر راج نافذ کر دی گئی تھی

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری مشاورت کے بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان حکومت بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں منعقدہ انتخابات کے نتائج کے مطابق 87 رکنی اسمبلی میں سب سے بڑی طاقت مفتی محمد سعید کی جماعت ’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ ہے جس کے پاس 28 نشستیں ہیں۔

کشمیر میں اقتدار کا ہما کس کے سر بیٹھے گا؟

الیکشن میں جموں و کشمیر کی نظریاتی تقسیم واضح

سب سے چھوٹی جماعت، سات آزاد ارکان چھوڑ کر، کانگریس پارٹی ہے جسے صرف 12 سیٹیں ہی ملی ہیں۔ درمیان میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہے جس کے 25 امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس (این سی) کو 15 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما محبوبہ مفتی سے ملاقات کے بعد بھارت میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ کئی ملاقاتوں کے بعد کم از کم مشترکہ پروگرام پر اتفاق ہو گیا ہے جبکہ وزیراعظم مودی اور سابق وزیراعلیٰ مفتی سعید کی جلد ملاقات ہو گی۔‘

دوسری جانب محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے لوگوں کے مفادات کو ذہن میں رکھ کر ہی مخلوط حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور کئی ملاقاتوں کے بعد ہی اتحاد کا ایجنڈا طے ہوا ہے۔

’اتحاد کی حکومت جموں کشمیر کے لوگوں کی ضرورتوں، توقعات اور ترقی کو ذہن میں رکھے گی اور امن نظام قائم کرے گی۔ مخلوط حکومت بدعنوانی کے خلاف قدم اٹھائے گی اور ترقی کے لیے کام کرے گی۔‘

نو جنوری کو کشمیر میں مخلوط حکومت قائم کرنے کے لیے خفیہ اور اعلانیہ مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ 2000 سے 2008 کے درمیان (جموں کشمیر کی اسمبلی کی معیاد چھ برس ہے) پی ڈی پی نے کانگریس کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کیا تھا۔ پہلے تین برس تک مفتی سعید وزیراعلیٰ رہے تھے اور پھر تین برس تک اقتدار کی کمان کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد کے ہاتھ میں رہی تھی۔ پی ڈی پی کو اسی طرح کا معاہدہ پھر بی جے پی کے ساتھ کرنا چاہیے۔

پی ڈی پی بھارت اور پاکستان کے درمیان مفاہمت، سرحدوں پر امن اور کشمیر سے فوجی قوانین کا خاتمہ چاہتی ہے وہیں بی جے پی کشمیریوں سے خود حکمرانی کا حق واپس لینا چاہتی ہے اور فوجی قوانین کا دفاع کرتی ہے۔

اسی بارے میں