’بھارت میں ریلوے کا حلیہ پوری طرح بدلنا ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption ’تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد عام لوگوں کو کرایوں میں کمی کی امید تھی‘

بھارت کے وزیر ریلوے سریش پربھو نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں ریلوے کا حلیہ بدلنے کے لیے ساڑھے آٹھ لاکھ کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے جائیں گے۔

اپنا پہلا ریل بجٹ پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی کوشش ریلوے کا حلیہ بدلنے کی ہے اور ان کی حکومت مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور ریلوے کے حفاظتی ریکارڈ کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز رکھے گی۔

بھارتی ریل کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ریل نیٹ ورکس میں کیا جاتا ہے۔ ان پٹریوں پر روزانہ 12 ہزار ریل گاڑیاں چلتی ہیں اور سوا دو کروڑ مسافر سفر کرتے ہیں۔ ریلوے کے اپنے ملازمین کی تعداد 13 لاکھ کے قریب ہے۔

سریش پربھو کا پہلا بجٹ معمول کے بجٹ سے ذرا ہٹ کر تھا کیونکہ اس میں نہ تو کرایوں میں اضافے یا کمی کا کوئی اعلان کیا گیا اور نہ نئی ٹرینوں کا، جس کا عام طور پر لوگوں کو انتظار رہتا ہے۔

بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلوے کی حالت کو سدھارنے کے لیے انھوں نے پانچ نکاتی حکمت عملی وضح کی ہے جس کے تحت ریلوے کو درکار مالی وسائل کا انتظام کیا جائے گا اور اس حکمت عملی کو ایک پانچ سالہ ایکشن پلان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

انھوں نے جدیدکاری کی جو تصویر پیش کی، اس کو عملی شکل دینے کے لیے ریلوے کا حلیہ پوری طرح بدلنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption اپنا پہلا ریل بجٹ پیش کرتے ہوئےسریش پربھو نے کہا کہ ان کی کوشش ریلوے کا حلیہ بدلنے کی ہے

سریش پربھو نے کہا کہ موجودہ ٹرینوں کی رفتار بڑھائی جائے گی اور تیز رفتار ریل گاڑیاں چلانے کے لیے نئے کاریڈار بنائے جائیں گے، 970 ریلوے پل بنائے جائیں گے، 400 سٹیشنوں پر وائرلیس نیٹ ورک کی سہولت مہیا کی جائے گی، ٹرینوں میں نئے ڈیزاین کے ٹائلٹ بنائے جائیں گے جنہیں صاف رکھنا زیادہ آسان ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ریلوے رسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا جائے گا اور اس سب کے لیے درکار فنڈنگ کچھ حکومت فراہم کرے گی، کچھ بینک اور قرض دینے والے ادارے اور کچھ ریلوے کے اپنے اثاثوں کی مدد سے حاصل کی جائے گی لیکن ریلوے کو نجکاری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس جو وعدے کیے گئے تھے ان میں سے زیادہ تر ابھی پورے نہیں ہوئے ہیں۔

کانگرس کے سابق وزیر ریلوے بھگت چرن داس نے کہا کہ سریش پربھو کے بجٹ میں کوئی نئی بات نہیں ہے، تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد عام لوگوں کو کرایوں میں کمی کی امید تھی اور اس بجٹ سے انہیں مایوسی ہوگی۔

ریلوے کے ماہر وینت کھرے کا کہنا تھا کہ اس بحٹ کو پانچ سال کی مدت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ سریش پربھو نےکچھ ایسی اصلاحات کا وعدہ کیا ہے جن کی ماہرین برسوں سے وکالت کرتے رہے ہیں۔

بھارتی ریلوے کا سیفٹی ریکارڈ کافی خراب ہے، اس حوالے سے سریش پربھو نے کہا کہ حکومت مسافروں کی سہولت اور حفاظت دونوں کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں