کشمیر میں حکومت سازی کی راہ ہموار، مفتی سعید وزیر اعلیٰ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مفتی سعید پورے چھ سال کی مدت کے لیے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی کی ذمہ داری سنبھالیں گے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان حکومت سازی پر اتفاقِ رائے کے بعد پی ڈی پی کے سربراہ مفتی محمد سعید یکم مارچ کو جموں و کشمیر کی نئی مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ریاستی حکومت میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی بھی شامل ہوگی۔

کشمیر میں اقتدار کا ہما کس کے سر بیٹھے گا؟

الیکشن میں جموں و کشمیر کی نظریاتی تقسیم واضح

مفتی سعید نے جمعہ کی صبح دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا کہ وونوں جماعتوں کے درمیان حکومت سازی پر موجود اختلافات ختم ہوگئے ہیں اور دو مہینے کے انتظار کے بعد اب ریاست میں حکومت بنانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

وہ پورے چھ سال کی مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھالیں گے اور حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم مودی بھی شرکت کریں گے۔

مفتی سعید نے کہا کہ ’وادی کشمیر میں ہمیں ووٹ ملے تھے اور جموں میں بی جے پی کو ۔۔۔ اس لیے دونوں کو مل کر حکومت بنانی چاہیے۔‘

دونوں جماعتوں کے درمیان تین حساس نکات پر اختلافات تھے جن میں ریاست میں مسلح افواج کو حاصل خصوصی اختیارات پر ریاستی حکومت کی پالیسی، آئین کی دفعہ 370 کے بارے میں حکومتی موقف اور مسئلہ کشمیر پر بات چیت میں حریت کو شامل کرنے کا دروازہ کھلا رکھنے کے معاملات شامل تھے۔

دونوں جماعتیں اپنے اتحاد کا اعلان پہلے ہی کر چکی تھیں لیکن بظاہر اس تحریری دستاویز کے متن پر اختلافات تھے جس کی بنیاد پر یہ حکومت کام کرے گی۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے دونوں جماعتوں نے کس حد تک اپنے موقف میں نرمی دکھائی ہے لیکن وفاقی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ واضح عندیہ دے چکے ہیں کہ مسلح افواج کو جس قانون کے تحت خصوصی اختیارات حاصل ہیں اسےفوج کے مشورے کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا۔

حکومت کے کم سے کم مشترکہ پروگرام (سی ایم پی) کا اعلان اتوار کو حلف برداری کے بعد کیا جائے گا۔

کشمیر میں گذشتہ سال دسمبر میں منعقدہ انتخابات کے نتائج کے مطابق 87 رکنی اسمبلی میں سب سے بڑی طاقت مفتی محمد سعید کی جماعت ’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ ہے جس کے پاس 28 نشستیں ہیں۔

اسی بارے میں