’انٹرنیٹ ہر گوشے کی آواز ہے کیسے بند کروگے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انٹرنیٹ اب شہر سے دیہی علاقوں تک اپنی رسائی رکھتا ہے اور اب یہ خاص و عام کی پہنچ میں ہے۔

بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون (آئی ٹی ایکٹ) کے آرٹیکل 66A کے متعلق سپریم کورٹ میں بہت سی درخواستیں پڑی ہوئی ہیں۔

آرٹیکل 66A کے تحت کسی دوسرے شخص کو قابل اعتراض لگنے والی کوئی بھی معلومات کمپیوٹر یا موبائل فون سے بھیجنا قابل سزا جرم ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر بعض درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ یہ درخواستیں اظہار کی آزادی کے خلاف ہیں جو بھارتی آئین کے مطابق ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

اس بحث کے درمیان حکومت نے اپنا موقف سپریم کورٹ کے سامنے رکھا ہے۔ حکومت نے عدالت سے کہا کہ بھارت میں سائبر کے شعبے میں کچھ پابندیاں ہونی ضروری ہیں کیونکہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں کہا: ’اخباروں اور ٹی وی کے علاوہ اب انٹرنیٹ پر بھی بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں۔ ٹی وی پر آنے والے پروگراموں اور فلموں کی سینسر شپ ہوتی ہے، لیکن انٹرنیٹ پر آنے والی چیزیں کسی ادارے سے نہیں بلکہ لوگوں کے مخصوص خیالات سے متاثر ہوتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Agencies
Image caption بھارت کے نوجوانوں میں موبائل انٹرنیٹ کا رواج تیزی سے بڑھ رہا ہے

لیکن آج کے ہندوستان کی سچائی یہ بھی ہے کہ لوگ اپنے اظہار کی آزادی کا استعمال کرنے کے لیے صرف ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کے ذرائع کا استعمال نہیں کر رہے ہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنی بات اور خیالات سامنے رکھ رہے ہیں۔

آج کل چند میڈیا پلیٹ فارمز صرف انٹرنیٹ پر ہی دستیاب ہیں۔ یہاں تک کہ بعض ویب سائٹس پر تو صحافت اور کسی معاملے پر سرگرم ہونے کے درمیان کا فرق بتانا مشکل ہے۔ تو کیا حکومت ان پر بھی سینسر شپ کی لگام لگا پائے گي؟

ڈیجیٹل امپاورمنٹ فاؤنڈیشن (ڈی ای ایف) کے بانی اسامہ منظر نے بی بی سی کو بتایا: ’وہ گئے زمانے کی بات ہے جب آپ مائیک، میڈیا یا ریڈیو کے بغیر اپنی آواز اٹھانے کی بات سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ جن لوگوں کی آواز سینکڑوں سالوں سے نہیں سنی جا رہی تھی، اب انھیں انٹرنیٹ پر اپنی آواز اٹھانے کا موقع مل رہا ہے۔ حکومت کو اسے ایک ثقافتی تبدیلی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ایک کنٹرولر کے طور پر۔ لوگوں کو اپنی غصہ نکالنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’ایسے وقت میں جب انٹرنیٹ ہر گوشے کی آواز بن گیا ہے، حکومت کس کس گوشے کی پہریداری کرے گی؟‘

Image caption حکومت انٹرنیٹ پر قانون لاکر اسے کنٹرول کرنا چاہتی ہے

سابقہ یو پی اے حکومت کے دوران مرکزی مواصلات اور ٹیکنالوجی کے وزیر کپل سبل نے جب انٹرنیٹ سینسر شپ کی حمایت کی تھی تو ان کی مخالفت کے لیے نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹر پروفائل کی تصویر تبدیل کر کے ایک سیاہ رنگ کا پوسٹر لگا لیا تھا۔

سكرول نام کی ویب سائٹ میں کام کرنے والے صحافی شوم وج نے بی بی سی سے کہا: ’اس وقت ارون جیٹلی نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ آرٹیکل 66A اندرا گاندھی کے ایمرجنسی قانون کی طرح ہے۔ نریندر مودی کی حکومت اب اسی قانون کی حمایت کر رہی ہے، جس کی انھوں نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے سخت تنقید کی تھی۔ نریندر مودی تو خود کو سوشل میڈیا کا چیمپیئن کہتے ہیں اور ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتے ہیں۔ ان کی حکومت ایسا رخ کیوں اپنا رہی ہے؟‘

شوم وج کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 66A کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور آج کے ہندوستان میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، حکومت صرف اپنے کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے اس قانون کا دفاع کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا: ’سپیم پر روک لگانے کے لیے آرٹیکل 66A کو لایا گیا تھا لیکن آج تک کسی بھی سپیمر کے خلاف کوئی کیس درج نہیں ہوا ہے۔ البتہ ان لوگوں کے خلاف کیس ضرور درج ہوا جنھوں نے سیاسی جماعتوں یا رہنماؤں کے خلاف اپنی باتیں ركھيں۔ کیا اس آرٹیکل کو لانے کا یہی مقصد تھا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی خود کو سوشل میڈیا کا چیمپیئن کہتے ہیں

لیکن اسامہ منظر اور شوم وج کے خیالات سے ہر کوئی متفق نہیں ہے۔

سائبر قانون کے علمبردار اور وکیل پون دگگل کا کہنا ہے کہ معاشرے میں ایک نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ایسا قانون ضروری ہے۔

بی بی سی سے بات چیت میں انھوں نے کہا: ’آپ انٹرنیٹ صحافت میں ہیں، اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ آپ کچھ بھی لکھیں۔ میڈیا ویب سائٹوں کو بھی اس قانون کے تحت کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔‘

لیکن پھر قابل اعتراض لفظ کی تعریف آخر کیا ہے؟ یہ بھی ممکن ہے کہ جو بات ایک شہری کو قابل اعتراض لگے وہ دوسرے کے نزدیک اظہار کی آزادی ہو۔ فی الحال سپریم کورٹ نے اس مسئلے پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔

اسی بارے میں