’پاکستان کے تعاون کے بغیر کشمیر میں انتخابات ممکن نہیں تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اتوار کو مفتی محمد سعید کشمیر کے نئے وزیرِاعلیٰ بن گئے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نئی حکومت کے وزیر اعلیٰ مفتی سعید نے کہا ہے کہ پاکستان اور مسلح کشمیری گروپ چاہتے تو انتخابی عمل میں رخنہ ڈال سکتے تھے۔

کشمیر کے انتخابی نتائج کے بعد کئی ہفتوں سے جاری طویل مذاکرات کے بعد اتوار کو جموں کے یونیورسٹی آڈیٹوریم میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مفتی محمد سعید نے ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔

وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے حلف لینے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر میں انتخابی عمل پاکستان اور کشمیریوں کی مسلح اور غیرمسلح قیادت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا: ’انتخابات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور کشمیریوں کے مسلح و غیر مسلح رہنماؤں نے اس عمل کو ہونے دیا۔ وہ چاہتے تھے تو اس میں رخنہ ڈال سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ جمہوری فضا کی بحالی ہے۔‘

پاکستان کی حکومت نے ہند نواز پی ڈی پی سے گذشتہ ہفتے اس وقت سرد مہری ظاہر کی جب مفتی سعید کے خاص الخاص نعیم اختر کو ویزا دینے سے انکار کیا گیا۔ نعیم اختر اسلام آباد کے پالیسی ساز ادارہ جناح انسٹیٹیوٹ کی طرف سے منعقدہ ایک انڈو پاک کانفرنس میں مدعو کیے گئے تھے۔

بھارتی میڈیا نے پاکستانی دفتر خارجہ کے حوالے سے لکھا ’پاکستان سمجھتا ہے کہ صرف حریت کانفرنس کشمیریوں کی جائز نمائندہ جماعت ہے۔‘

60 برس میں پہلی مرتبہ بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کو کشمیر کے اقتدار میں کلیدی کردار ملا ہے۔

پارٹی کے رہنما نرمل سنگھ مفتی سعید کے نائب ہوں گے جبکہ وزارتی کونسل میں پی ڈی پی کے 14 ، بی جے پی کے نو اور ایک آزاد امیدوار بھی شامل ہوں گے۔ سابق علیحدگی پسند سجاد غنی لون کو بھی بی جے پی کی حمایت سے وزارتی کونسل میں جگہ دی گئی ہے۔

حلف برداری کی تقریب میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سمیت دوسرے رہنما بھی موجود تھے۔

سجاد لون کی ہند نواز سیاست میں آمد پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا :’مجھے نہیں معلوم کہ کون کیا کرے گا، یہ ان (علیحدگی پسندوں) کا اپنا فیصلہ ہوگا لیکن سجاد لون نے ایک بریک تھرو کیا ہے اور ایک راستہ کھل گیا۔‘

بی جے پی اور پی ڈی پی نظریاتی طور پر بہت مختلف ہیں۔

بی جے پی کشمیر کے بھارت میں مکمل انضمام اور اقتدار میں اقلیتی ہندو آبادی کی برابری کی حامل ہے جبکہ پی ڈی پی کشمیر کو بھارتی وفاق میں ایک مخصوص خود مختاری دلانا چاہتی ہے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات اور مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’پاکستان چاہتا تو انتخابی عمل میں رخنہ ڈال سکتا تھا‘

ان تضادات پر مفتی سعید کا کہنا تھا: ’سیاست ممکنات کو تلاش کرنے اور تضادات سے نمٹنے کا فن ہے۔ یہ بے شک نارتھ پول اور ساؤتھ پول کو ملانے والی بات ہوگئی ہے لیکن دونوں پارٹیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حکومت کو مستحکم بنانا ہے۔‘

حلف برداری کی اس تقریب میں کانگریس کے مقامی رہنماؤں نے شرکت کی لیکن سابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ اور ان کی پارٹی نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ تاہم عمرعبداللہ نے ٹوٹر پر کئی امور پر تنقید کی۔

انھوں نے لکھا: ’آج بی جے پی کے وزیر اسی آئین کا حلف لے رہے ہیں جس کو ختم کرنے کے لیے ماضی میں ان کے رہنما شیاما پرساد مکھرجی نے تحریک چلائی تھی۔‘

دریں اثنا اتوار کو ہی سری نگر کے دو مقامات ٹینگ پورہ اور زاکورہ میں 25 سال قبل سرکاری افواج کے ہاتھوں درجنوں مظاہرین کی ہلاکت کی برسی تھی۔

اس موقعہ پر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیریوں کی مسلسل بے انصافی کی جاتی رہی ہے۔

انھوں نے فوج، پولیس اور نیم فوجی اداروں کی طرف سے ڈھائے گئے مظالم کی انٹرنیشل وار کرائمز ٹریبیونل کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں