’لڑکی مزاحمت نہ کرتی تو صرف ریپ کرتے، تشدد نہیں‘

مکیش سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مکیش سنگھ نے انٹرویو میں نوجوان لڑکی کے ریپ اور بعد میں موت پر کسی قسم کی ندامت کا اظہار نہیں کیا

دہلی کے بدنام زمانہ بس گینگ ریپ کیس کے ایک مجرم مکیش سنگھ کا کہنا ہے کہ ریپ کے لیے مردوں سے زیادہ عورتیں ذمہ دار ہوتی ہیں اور جس لڑکی کو اس رات ریپ کیا گیا تھا اس نے پوری شدت سے مزاحمت نہ کی ہوتی، اور چپ رہی ہوتی تو اسے تشدد کا نشانہ نہ بنایا جاتا۔

مکیش سنگھ نے یہ بات ایک دستاویزی فلم ’انڈیاز ڈاٹر‘ (یعنی ہندستان کی بیٹی) میں کہی ہے جو آٹھ مارچ کو یوم خواتین کے موقع پر ریلیز کی جائے گی۔ یہ ڈاکومینٹری بی بی سی کے لیے فلم ساز لیزلی اڈوین نے بنائی ہے۔

یہ واقعہ 16 دسمبر 2012 کو پش آیا تھا جب ایک چلتی ہوئی بس میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا گیا تھا اور اسے شدید زخمی حالت میں سڑک کے کنارے ڈال دیا گیا تھا۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ لڑکی چند روز بعد سنگاپور کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی جہاں اسے حکومت نےعلاج کے لیے بھیجا تھا۔

اس لڑکی کو میڈیا نے نربھیا کا نام دیا تھا کیونکہ قانونی پابندیوں کی وجہ سے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ اس کیس میں مکیش سنگھ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

لیزلی اڈون نے منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سمجھنا چاہتی تھیں کہ مکیش سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے ایسا کیوں اور یہ مکیش سے بات کیے بغیر ممکن نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ جب دسمبر 2012 میں نے ٹی وی پر یہ خبر دیکھی تو میں دھنگ رہ گئی تھی۔۔۔مجھے نہیں لگتا کہ پہلے کبھی عورتوں کے حقوق کے لیے اتنی بڑی لڑائی لڑی گئی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لیزلی اڈون نے کہا کہ وہ یہ سمجھنا چاہتی تھیں کہ مکیش سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے ایسا کیوں

’بس کے ڈرائیور مکیش سنگھ نے اس رات جو کچھ ہوا مجھے اس کی تفصیل بتائی۔ حالانکہ اس معاملے کے وکلا کا کہنا ہے بس میں موجود سبھی مردوں نے متاثرہ خاتون کے ساتھ ریپ کیا اور باری باری بس چلائی ۔ لیکن مکیش سنگھ کا کہنا ہے کہ پورے وقت وہی بس چلا رہے تھے۔‘

اس معاملے کے تین اور مجرموں کے ساتھ مکیش سنگھ بھی موت کی سزا کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔ 16 گھنٹے چلنے والے انٹریو کے دوران مکیش سنگھ نے ذرا بھی افسوس کا اظہار نہیں کیا اور اسی بات پر تعجب کرتے رہے کہ اسں ریپ کے معاملے پر اتنا ہنگامہ کیوں مچایا جا رہا ہے۔

اس واقعہ کے بارے میں مکیش سنگھ کا کہنا ہےکہ ’اچھی لڑکیوں کو رات کے نو بجے گھر سے باہر نہیں گھومنا چاہیے، ریپ کے لیے لڑکی لڑکے سےزیادہ ذمہ دار ہوتی ہے، لڑکی اور لڑکا برابر نہیں ہوتے، لڑکیوں کو گھر کا کام کاج کرناچاہیے۔۔۔ نہ انہیں ڈسکو میں جانا چاہیے اور نہ خراب کپڑے پہننے چاہئیں۔‘

’صرف 20 فیصد لڑکیاں ہی با کردار ہوتی ہیں۔‘

اس رات جو کچھ ہوا اس کے بارے میں مکیش نے کہا کہ ’ریپ کے وقت اگر وہ مزاحمت نہ کرتی اور ریپ ہونے دیتی تو بعد میں ہم اسے چھوڑ دیتے، صرف اس کے دوست کی پٹائی کرتے۔‘

اس کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو حق ہے کہ وہ ایسی لڑکیوں کو سبق سکھائیں اور خواتین کو اس کے خلاف نہیں بولنا چاہیے۔

اس کیس میں پھانسی کی سزا سنائے جانے پر مکیش سنگھ کا کہنا تھا کہ ’موت کی سزا سے لڑکیوں کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا، اب اگر کوئی ریپ کرے گا تو لڑکی کو زندہ نہیں چھوڑے گا، وہ اسے مار ڈالے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption دہلی ریپ کے بعد پولیس کی طرف سے جاری کی گئی ملزمان کی تصویر

لزلی کہتی ہیں کہ ’میں نے مکیش سنگھ کے سامنے متاثرہ خاتون کے زخموں کی ایک لمبی فہرست پڑھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ مجھے اس کے چہرے پر پچھتاوے کی کہیں ایک جھلک دکھے لیکن مجھے کچھ نہیں ملا۔‘

’مکیش سنگھ جیسے لوگوں کو سزا دینے سے مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل نہیں ہوجائے گا۔۔۔ یہ لوگ بیماری نہیں بلکہ ایک بیماری کی علامت ہیں۔

’مکیش سنگھ اور چار دیگر ریپ کرنے والے افراد سے ملنے کے بعد مجھے لگا جیسے میری روح تارکول میں ڈوب گئی اور دنیا میں ایسا کوئی ڈٹرجنٹ نہیں ہے جو ان کبھی نہ ہٹنے والے دھبوں کو دھو سکے۔

’اس فلم کے دوران میری ملاقات گورو نامی ایک لڑکے سے ہوئی جس نے ایک پانچ سالہ لڑکی کے ساتھ ریپ کیا تھا۔ میں نے اس کا تین گھنٹے تک انٹرویو ریکارڈ کیا اور اس دوران اس نے مجھے بتایا کہ کیسے اس نے اس لڑکی کے منھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس معصوم بچی کی چیخیں بند کر دی تھیں۔

’وہ پورے انٹریو کے دوران بیٹھا رہا اور اس کے لبوں پر آدھی سے مسکراہٹ تھی شاید وہ کیمرے کے سامنے تھوڑا نروس تھا۔ انٹرویو کے دوران ایک بار میں نے اس سے پوچھا کہ اس چھوٹی لڑکی کا قد کتنا تھا تو وہ اٹھا اور اس نے اپنے گھٹنوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مجھے اس کے قد کا اندازہ دیا۔

’جب میں نے اس سے پوچھا کہ وہ اتنی چھوٹی لڑکی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے تو اس نے میری جانب ایسے دیکھا جیسے میں پاگل ہوں جو اس طرح کا سوال پوچھ رہی ہے، اس کا کہنا تھا کہ وہ بھیک مانگنی والی لڑکی تھی اس کی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریپ کے واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا اور بعد میں قوانین میں تبدیلی کرنا پڑی

’میں نے دسمبر ریپ کیس کے مجروموں کے دو دفاعی وکلا سے بات سے بھی بات کی اور انہوں نے مجھے چونکا دینے والی باتیں بتائیں۔ ان میں سے ایک وکیل ایم ایل شرما نے کہا: ہمارے سماج میں شام کے ساڑھے چھ، سات اور ساڑے آٹھ بجے کے بعد لڑکیوں کو کسی غیر مرد کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ آپ مرد اور خاتون کی دوستی کی بات کر رہی ہے، معاف کیجیے گا ہمارے سماج میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارا کلچرل سب سے اچھا ہے اور اس میں عورتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

’دوسرے وکیل اے پی سنگھ نے ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک دیگر انٹرویو میں بتایا تھا کہ اگر میری لڑکی یا بہن شادی سے پہلے اس طرح کی حرکتیں کرتی پھرے تو میں ایسی بیٹی اور بہن کو فارم ہا‎ؤس لے جاؤں گا اور اپنے پورے خاندان کے سامنے اس پر پٹرول پھینک کر آگ لگا دوں گا۔

’جب میں نے ان کا بیان ان کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا ’میں اپنے اس بیان پر آج بھی قائم ہوں۔‘

اس کیس کے خلاف ملک میں غیر معمولی ردعمل سامنے آیا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نربھیا کو انصاف دلوانے کے لیے مظاہرے کیے تھے۔ آخرکار حکومت نے عوام کے دباؤ کے سانے جھکتے ہوئے ایک نیا سخت قانون وضع کیا تھا جس میں ریپ کے لیے موت کی سزا کی گنجائش بھی شامل ہے۔

نربھیا کی والدہ نے اس فلم میں کہا ہے کہ ’جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے تو اس کے لیے لڑکی کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔۔۔اسے باہر نہیں جانا چاہیے تھا، ایسے کپڑے نہیں پہننے چاہیے تھے۔۔۔لڑکوں سے پوچھناچاہیے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

اسی بارے میں