’دہلی ریپ کے بارے میں فلم کی نمائش نہیں ہونے دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات و نشریات کی وزارت سے بات کی ہے تاکہ اس فلم کو ملک کے باہر بھی نہ دکھایا جائے: راج ناتھ سنگھ

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے دسمبر 2012 میں دہلی میں ایک چلتی بس میں لڑکی کو ریپ کرنے والے مجرموں سے بات چیت پر مبنی دستاویزی فلم پر تنقید کی ہے۔

انھوں نے کہا ہے اس دستاویزی فلم کو کسی بھی صورت میں نشر نہیں کیا جانا چاہیے۔

برطانیہ میں بی بی سی پر نشر ہونے والی یہ فلم بھارت میں نیوز چینل این ڈی ٹی وی پر دکھائی جانی ہے۔

راج ناتھ سنگھ نے بدھ کو پارلیمان میں اپنی تقریر میں کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کروائیں گے کہ جنسی زیادتی کے مجرم کے انٹرویو کی اجازت کیسے دی گئی؟

انھوں نے کہا ’میں پورے معاملے کی جانچ كرواؤں گا۔ اگر انٹرویو کے عمل میں ترمیم کی ضرورت ہے تو وہ بھی کی جائے گی۔ اس میں جوابدہی کا تعین کیا جائے گا۔‘

فلم بنانے والوں نے وزارت داخلہ سے تہاڑ جیل میں بند مجرموں کا انٹرویو لینے کی اجازت لی تھی۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ یہ اجازت کچھ شرائط کی بنیاد پر دی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ کن حالات میں ایسی اجازت دی گئی تھی اس کی پوری جانچ کی جا رہی ہے اور اس کے لیے جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فلم کی ہدایتکار لیزلی کے مطابق اس فلم سے انھوں نے یہ سمجھا کہ ریپ کے یہ مجرم بیماری نہیں صرف اس کی علامات ہیں

راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ انھوں نے اطلاعات و نشریات کی وزارت سے بات کی ہے تاکہ اس فلم کو ملک کے باہر بھی نہ دکھایا جائے۔

پارلیمانی امور کے وزیر وینکیا نائیڈو نے اس دستاویزی فلم کو بھارت کو بدنام کرنے کی شازش قرار دیا ہے۔

وزیر داخلہ کے بیان کے بعد راجیہ سبھا میں ہنگامہ بھی ہوا اور ایوان کے ارکان اس معاملے پر حکومت سے سوال کرنے کے خواہشمند نظر آئے۔

ادھر دہلی میں ہی پولیس نے اس فلم کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے اس کی نمائش کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی بھی حاصل کر لیا ہے۔

’انڈیاز ڈاٹر‘ نامی یہ دستاویزی فلم بی بی سی کے لیے بنائی گئی تھی جس میں ریپ کے مجرم مکیش سنگھ سمیت دہلی میں 16 دسمبر سنہ 2012 کو ایک 23 سالہ میڈیکل طالبہ کے ساتھ ہونے والے اجتماعی ریپ کے دیگر قصورواروں سے بات چیت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اس واقعے کو ’نربھیا‘ معاملہ کہا گیا جس میں ایک طالبہ کا گینگ ریپ کیا گيا تھا اور وہ زخموں کی تاب نہ لا سکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ریپ کے ایک مرتکب مکیش سنگھ نے بی بی سی 4 کے لیے لیزلی اڈون سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عصمت دری کے لیے مردوں سے زیادہ خواتین ذمہ دار ہیں

’نربھیا‘ ہندی کا لفظ ہے جس کا مطلب ’بے خوف‘ ہوتا ہے اور حادثے کا شکار لڑکی کو بھارتی میڈیا میں یہ نام دیا گیا تھا۔

دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسسي نے صحافیوں کو بتایا کہ میڈیا میں آنے والی رپورٹوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فلم میں ’نربھيا‘ کے بارے میں بعض ایسی باتیں سامنے آئی ہیں جن سے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

بسسي نے کہا: ’ہم نے تعزیرات ہند کی دفعہ 504، 1-505 (بی)، 509 اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 66 - اے کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ ہم اس کی رونمائی پر روک لگانے کے مطالبے کے لیے عدالت بھی جائیں گے۔‘

مکیش سنگھ نے بی بی سی 4 کے لیے لیزلی اڈون سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’عصمت دری کے لیے مردوں سے زیادہ خواتین ذمہ دار ہیں۔‘

فلم کے شریک پروڈیوسر اور سینیئر صحافی دیبانگ نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ ’اگر اس فلم کی نمائش پر پابندی لگائی جاتی ہے تو یہ اظہار کی آزادی کے لیے غلط ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس واقعے کے بعد پورے میں شدید غم و غصے کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور قوانین میں سختی لائی گئی تھی

برطانیہ میں بی بی سی پر نشر ہونے والی یہ فلم بھارت میں نیوز چینل این ڈی ٹی وی پر دکھائی جانی ہے۔

سینیئر وکیل اندرا جے سنگھ، خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم خاتون کویتا کرشنن سمیت کئی انسانی حقوق کے کارکنوں نے این ڈی ٹی وی چینل کو خط لکھ کر فلم نہ نشر کیے جانے مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے میں بس ڈرائیور مکیش سنگھ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ اس کے خلاف ان کی اپیل عدالت میں ابھی زیر التوا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اس کیس کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر التوا ہونے کی وجہ سے، ملزمان کے بیان ظاہر کرنا ’عدالت کی توہین‘ ہوگی.

کویتا كرشنن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’فلم میں نسل پرستانہ فکر کو فروغ دینے کا احساس ہوتا ہے جس میں عصمت دری اور اس کے متعلق بھارتی مردوں کی ایک خراب تصویر پیش کی گئی ہے جبکہ ریپ پوری دنیا کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس فلم پر روک لگائے جانے کی بھی بات کی جا رہی ہے

کویتا نے فلم کے عنوان میں ریپ کی متاثرہ کو ’بھارت کی بیٹی‘ کہے جانے کی بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’لڑکیوں کو انسان کی طرح دیکھا جانا ضروری ہے، بہو بیٹی جیسے رشتوں میں رکھنے سے پھر ان کی حفاظت کے ہی نام پر ان کی آزادی کم کی جاتی ہے۔‘

اس سے پہلے صحافیوں سے بات چیت میں دستاویزی فلم کی ڈائریکٹر لیزلی اڈون نے کہا کہ انھوں نے تمام فریقوں کی بات کو متوازن طریقے سے رکھنے کی کوشش کی ہے۔

لیزلی نے کہا: ’صرف مکیش ہی نہیں، ان کے وکیل اور بہت سے دوسرے لوگوں کی بات بھی رکھی گئی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان میں لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان موجود عدم مساوات، عصمت دری جیسے جرائم کی جڑ ہیں۔‘

لیزلی کے مطابق اس فلم سے انھوں نے یہ سمجھا کہ ریپ کے یہ مجرم بیماری نہیں صرف اس کی علامات ہیں۔

انھوں نے کہا: ’بیماری تو لڑکے اور لڑکی میں فرق کرنےوالی ذہنیت ہے اور یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کی علامات کبھی عصمت دری، رحم مادر میں قتل، عزت کے نام پر قتل یا لڑکیوں کی سمگلنگ کے طور پر نظر آتے ہیں۔‘

Image caption کویتا کرشنن نے اس فلم کو نہ دکھائے جانے کی مانگ کی ہے

اسی بارے میں