انقلاب ایران اور حقوق نسواں کا جِن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران میں خواتین کو بھی مختلف شعبوں مں کام کرنے کی آزادی حاصل ہے

سنہ 1979 میں ایران کے انقلاب نےجہاں آیت اللہ خمینی کو اقتدار میں آنے کا موقع دیا وہیں یہ ایرانی خواتین کے لیے تعلیم، کام اور حتٰی کے گھریلو کاموں کے لیے مثبت اثر لایا۔

بی بی سی کی نامہ نگار ایمی گپتا نے تہران کی زیرِ زمین ٹرین کے سفر میں وہاں کی خواتین کی زندگیوں پر اس 35 سالہ انقلاب کے اثرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔

میری 30 سالہ گائیڈ فرح ایک دراز قد اور سمارٹ خاتون تھیں۔ جینز پہنےگردن سے ٹخنوں تک وہ ایک سادہ چوغے میں ملبوس تھیں۔ ایرانی عورتوں کے لیے یہ چوغہ پہننا لازمی ہے۔ فرح کے ریشمی سیاہ بال ان کےسر پہ موجود سکارف کےاندر تھے لیکن چند لٹیں گردن کے حصے سے دکھائی دے رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کی خواتین ملکی قوانین کے مطابق اپنے سر پر سکارف لیتی ہیں

ہمارا رخ شمالی تہران میں واقع تجریش بازار کی جانب تھا جہاں ہم دس مختلف اقسام کے خشک میوہ جات اور دیگر اشیا کی تلاش میں جا رہے تھے۔ اس سفر کے لیے فرح نے اپنی سہولت کے لیے جبکہ میں نے زیرِ زمین تہران کا مشاہد کرنے کے لیے میٹرو کا انتخاب کیا۔ تجریش بازار کو یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے مصروف ترین مرکز قرار دیا جاتا ہے۔

صبح کا آغاز ہوچکا تھا اور ان اوقات میں ضابطے کے مطابق مرد وخواتین کو الگ الگ سیٹوں پر بیٹھنا ہوتا ہے لیکن دن کے مصروف اوقات یعنی صبح کے بعد اس میں نرمی کردی جاتی ہے۔

ہمارے ساتھ چند اور خواتین بھی تھیں۔اس ائر کنڈیشنڈ جدید گاڑی میں بوڑھے اور نوجوان مرد اور عورتیں سہارے کے لیے موجود ڈنڈے کو پکڑے ایک دوسرے کے برابر کھڑے تھے۔

دو سٹاپ گزرنے کے بعد جب 20 کے قریب مسافر اتر گئے تو مرد اور عورتیں ایک بار پھر الگ الگ کونوں میں لیکن منظر میں اکھٹے دکھائی دے رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کی خواتین میں جدید فیشن اپنانے کا رجحان دکھائی دیتا ہے

کھڑکی سے باہر فیشن کی دلدادہ لڑکیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ شوخ رنگوں کے چوغوں کے نیچے انھوں نے چست پاجامے پہن رکھے تھے اور وہ اپنے سکارف سر سے سرکائے ہوئے تھے۔

ہمیں چند ایسی خواتین کے گروہ کے ساتھ جگہ ملی جنھوں نے قدیم انداز میں خود کو ڈھانپ رکھا تھا جسے ’چادر‘ کہتے ہیں۔

یہ ان دیگر خواتین کی طرح نہیں تھیں جو اپنے انداز بیاں میں بے باک ہوتی ہیں اور ان میں سے بہت سی آزاد خیال ہوتی ہیں۔

فرح نے مجھے کہا کہ ہم ایسی قوم ہیں جن کی زبان ایک مگر رہن سہن روایتی اور ماڈرن دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔

جیسے ہی ہم نے انگریزی زبان میں ایک دوسرے سے گفتگو کی تو وہاں موجود مردوں اور خواتین کے چہروں پر ایک سوالیہ نشان دکھائی دیا۔ اس سے لگا کہ ان میں انگریزی زبان کی سمجھ نہیں تھی اور وہ تجسس میں دکھائی دیے کہ ہم کیا حفیہ بات چیت کر رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اعلیٰ تعلیمی ڈگری کے حصول میں ایرانی خواتین مردو سے آگے ہیں

فرح نے ایران کے انقلاب کے بعد کی تین دہائیوں کے بارے میں خواتین کے تجربات پر بات شروع کی۔ تہران کی میٹرو بس میں مجھے ایران میں صنفی مساوات کے بارے میں خود بخود آگاہی مل رہی تھی۔

فرح نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ہمیں جو چکھ بھی دکھائی دے رہا تھا وہ مغرب سے درآمد نہیں ہوا بلکہ اس کا باعث 1979 کا انقلاب ہے۔

تعلیم اور مخدوش معاشی حالات نے ایران میں ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی ہے جہاں اب عورت کو آزادی حاصل ہے کہ وہ کیرئر بنا سکتی ہے اور اس کا شوہر بچے سھنبالنے اور گھر کے کاموں میں بخوشی اس کا ساتھ دیتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ انقلابیوں نے گھروں سے نکلنے کے لیے عورتوں کی حمایت کی۔ ’لیکن انھوں نے یہ پیش گوئی کبھی نہیں کی تھی کہ یہ عورتیں یہ سمجھنا شروع کر دیں گی کہ گھر سے باہر نکلنا ان کا حق بن چکا ہے۔

ایرانی جِن بوتل سے باہر نکل آیا تھا۔ یہی خواتین اہم دینی سکولوں درگاہوں کی ممبر بنیں، عدالتوں میں منصف بنیں اور انجینئیرنگ کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔

فرح کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انھوں نے کس چیز کی ترویج کی، قدامت پسندی کی یا بنیاد پرستی کی، آیا میں اس پر یقین رکھتی ہوں یا نہیں، یہ ان کا انتخاب ہے اور اس سے مجھے خوشی ہے۔‘

آیت اللہ خمینی نے انقلاب کے ذریعے ان تبدیلیوں کی توقع نہیں کی تھی لیکن ایران کی خراب معیشت کی وجہ سے خواتین کے پاس کام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

اور اس صورتحال میں مرد اپنی بیویوں کو پیسے کمانے کے لیے گھر سے باہر بھیجنے پر مجبور ہوئے۔

فرح نے بتایا کہ ماضی صرف خوشحال گھرانوں کی لڑکیوں کو گھر باہر جا کر کام کرنے کی اجازت تھی لیکن اب ’تقریباً ہر لڑکا شادی کے لیے پکی نوکری اور اور اچھی تنخوا حاصل کرنے والی لڑکی سے شادی کرنے کوترجیح دیتا ہے۔ اکثر خواتین اپنے شوہروں سے زیادہ مشقت اور طویل اوقات میں کام کرتی ہیں اس لیے مرد اب گھر کے کام زیادہ کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کئی ایرانی خاندان ایسے ہیں جہاں بیوی شوہر سے زیادہ مشقت طلب کام کرتی ہے

ایک بروقت فیصلے نے ایرانی خواتین کی زندگی کو بدلنے میں مدد کی۔

1982 میں انقلاب کے فقط تین سال بعد حکومت نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ موجودہ تعلیمی نظام ناکافی ہے اور ایک عام ایرانی کے لیے دستیاب بھی نہیں اور نہ ہی یہ طالب علموں کو ضروری مہارت فراہم کر سکتا ہے۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ’آزاد یونیورسٹی‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس بغیر نفع کےقومی نیٹ ورک پر مشتمل ادارے نے ملک کے بڑے شہروں، چھوٹے قصبوں اور حتٰی کہ گاؤں میں بھی اپنی شاخیں کھولیں اور غریب طبقے کی لڑکیوں تک تعلیم کی رسائی کو ممکن بنایا گیا جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھا۔

’یہ لڑکیاں جو مجھے پسند کرتی ہیں، اپنے خاندان میں پہلی تھیں جو یونیورسٹی گئیں، وہ اپنے بچوں کو مساوات کا سبق دیتی ہیں کیونکہ وہ خود اسی ماحول میں بڑی ہوئی ہیں۔‘

فرح سے میں نے پوچھا کہ اس نے یونیورسٹی میں کیا پڑھا؟ جواب میں اس نے مسکرا کر کہا ’خواتین کی تعلیم‘۔

تاہم وہ بتاتی ہیں کہ اب گریجویشن کی ڈگری لینے والوں میں خواتین کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے اور اس سے ایک سماجی مسئلہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

’بہت سی ایرانی خواتین ایسے مردوں سے ملنے کا خواب نہیں دیکھتیں جو دانائی میں ان سے کم تر ہوں۔‘

تہران کی میٹرو میں شوقیہ گانے والوں کے بجائے ایک مرد دکھائی دیا جو کچن کا سامان اور سودا سلف لے کر جا رہا تھا۔

جیسے ہی ہم تاجر سٹیشن پہنچے وہاں ہمیں کوئی خریدار خاتون نظر نہیں آئی۔ لگتا یہی ہے کہ اگر خواتین کو اپنی باورچی خانے کے لیے کوئی سودا سلف یا صفائی کا سامان چاہیے ہوگا تو ان کے مرد جا کر خریداری کر لائیں گے۔

اسی بارے میں