چین میں آلودگی پر بنی فلم کو ہٹا دیا گیا

چین میں حکام نے ایک ویب سائٹ سے اس مقبول دستاویزی فلم کو ہٹا دیا ہے جو ملک میں آلودگی کے شدید ترین مسئلے کو اجاگر کرتی ہے۔

’فلم انڈر دی ڈوم‘ میں آلودگی کی سماجی قیمت اور اس کی وجہ سے صحت کو ہونے والے نقصانات کی وضاحت کی گئی ہے اور اسے آن لائن ایک سو ملین لوگوں نے دیکھا جس کے بعد چین میں آلودگی کے مسئلے پر بحث چھڑ گئی۔

فلم کو چینی وزیرِ اعظم لی کی چیانگ کے ایک بیان کے صرف دو روز بعد ہٹا دیا گیا جس میں انھوں نے آلودگی کو لوگوں کی زندگیوں کے لیے آفت و مصیبت قرار دیا تھا۔ چینی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ان کی حکومت اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ اس صورتِ حال کا مقابلہ کرے گی۔

تحفظِ ماحول کے لیے حال ہی میں مقرر کیے جانے والے وزیر چین جیننگ نے فلم کی تعریف کی تھی اور نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ ’فلم ہوا کی کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے انفرادی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔‘

تاہم نامہ نگار کہتے ہیں کہ آلودگی کے مسئلے پر بننے والی اس جذباتی اور آزاد فلم کی بہت زیادہ مقبولیت کی وجہ سے کمیونسٹ حکام نروس ہوگئے ہیں۔

یہ فلم تحقیقاتی جرنلزم کے لیے معروف صحافی چائی جِنگ نے بنائی ہے اور اس کی پروڈکشن میں انھوں نے اپنے جیب سے پیسے خرچ کیے ہیں۔ فلم میں آلودگی سے نمٹنے کے لیے چینی ریاست کے کمزور قوانین پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔

وہ لنک جس پر کلک کر کے یہ فلم دیکھی جا سکتی تھی اب دستیاب نہیں ہے۔ یُوکو ویب سائٹ پر جائیں جہاں پہلے یہ فلم دیکھی جا سکتی تھی، تو وہاں اب کلک کے بعد یہ پیغام سامنے آتا ہے’ہمیں افسوس ہے۔ یُوکو وہ صفحہ نہیں ڈھونڈ سکی جسے آپ تلاش کر رہے تھے۔‘

روئیٹر نیوز ایجنسی کی کوشش کے باوجود نہ یوکو اور نہ مس چائی فوری طور پر ردِ عمل کے لیے دستیاب تھیں۔

چین دنیا میں آن لائن سنسر شپ کے لیے سب سے زیادہ موثر نظام استعمال کرتا ہے جسے ’گریٹ فائر وال‘ کہتے ہیں۔

چین میں سوشل میڈیا کے کچھ صارفین نے فلم کے ہٹائے جانے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق ان میں سے ایک نے لکھا ’کچھ لوگوں کے پاس چائی جِنگ کی فلم کا گلا گھونٹ دینے کی طاقت تو ہے لیکن اس ملک میں آلودگی کا گلا گھونٹنے کی طاقت نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں