’ پریا پلئی کے پاسپورٹ سے آف لوڈ کے الفاظ ہٹا دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’یہ غیر قانونی اور اپنی مرضی چلانے والا فیصلہ ہے‘

بھارت کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ حکومت بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم گرین پیس کی ایک کارکن کو بیرونِ ممالک جانے سے نہیں روک سکتی۔

گرین پیس کی ایک سینیئر کارکن پریا پلئی کو جنوری میں دہلی کے ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے اس وقت روک لیا تھا جب وہ برطانیہ کے لیے طیارے پر سوار ہونے والی تھیں۔ امیگریشن اہلکار نے اس وقت انھیں اس کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی تھی اور ان کے پاسپورٹ پر ’آف لوڈ‘ لکھ دیا تھا۔

پریا پلئی مدھیہ پردیش میں ایک برطانوی کمپنی کو کوئلے کی کانکنی کا ٹھیکہ دیے جانے سے مقامی قبائلیوں کی زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں لندن ميں برطانوی ارکان پارلیمان کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے والی تھیں۔

پریا کو امیگریشن حکام نے ہوائی اڈے پر یہ کہہ کر روک دیا کہ ان کا نام ان افراد کی فہرست میں شامل ہے جنھیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

پریا پلئی کا کہنا تھا کہ انھیں اس طرح سے سفر کرنے سے روکنا ’ غیر قانونی اور اپنی مرضی چلانے والا فیصلہ ہے۔‘

حکومت کے اس قدم کی سوشل میڈیا اور سیکیولر حلقوں میں بے حد تنقید ہوئی تھی جس کے بعد گرین پیس نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اور وزارت داخلہ سے وضاحت طلب کی تھی کہ پرواز کے لیے باضابطہ دستاویزات ہونے کے باوجود پریا پلئی کو ملک سے باہر نہ جانے دینے کا کیا قانونی جواز ہے۔

عدالت کی جانب سے طلب کرنے پر حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والے دلیل میں کہا گیا تھا کہ پریا پلئی کو اس لیے برطانیہ جانے سے روکا گيا کیونکہ وہ ’ملک مخالف کاروائیوں‘ میں ملوث ہیں۔

محترمہ پلئی کے پاسپورٹ پر امیگریشن اہلکاروں نے ’آف لوڈ‘ لکھ دیا تھا، جس پر جمعرات کو عدالت نے حکومت کو حکم ہے کہ وہ محترمہ پلئی کے پاسپورٹ سے یہ الفاظ ہٹا دیں۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے: ’آپ جمہوریت میں اختلاف رائے کی گنجائش تنگ نہیں کر سکتے۔ ملک کی ترقیاتی پالیسیوں سے متعلق لوگوں کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔‘

حکومت کی جانب سے پریا پلئی کو اس طرح برطانیہ جانے سے روکنے پر سوشل میڈیا میں بے حد تنقید ہوئی تھی اور اس کو نئی حکومت کے دور میں ’غیرسماجی تنظیموں کے لیے آزادانہ طور پر کام کرنے میں رکاوٹ‘ قرار دیا گیا تھا۔

پریا پلئی نے ایک بیان میں کہا تھا: ’کیا بھارت میں ملک کے غریب لوگوں کے حقوق کے لیے کام کرناجرم ہے؟‘

گرین پیس نے اپنی کارکن کو روکے جانے کو حقوق انسانی کے کارکنوں کو حکومت کے ذریعے دھمکی دیے جانےسے تعبیر کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گرین پیس نے اپنے کارکن کو روکے جانے کو حقوق انسانی کے کارکنوں کو حکومت کے ذریعے دھمکانے سے تعبیر کیا تھا

گرین پیس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’حکومت کا ارادہ واضح ہے، وہ گرین پیس اور اس کے ملازمین کو دھمکانا اور دبانا چاہتے ہیں لیکن اس طرح کے اقدام سے بھارت کے عوام اور بھارت کے ماحولیات کے تحفظ کے لیے ہماری مہم میں اور شدت آئے گی۔‘

یہ دوسرا موقع تھا جب بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم کے کارکن کو اس طرح روکا گیا ہے۔ چھ مہینے قبل گرین پیس کے ایک برطانوی کارکن کو دہلی کے ہوائی اڈے سے واپس برطانیہ بھیج دیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ نے چند مہینے قبل گرین پیس اور کئی ديگر غیر سرکاری تنظمیوں کے غیر ملکی فنڈ ضبط کر لیے تھے۔ گرین پیس نے حکومت کے اس قدم کو عدالت میں چیلنچ کر رکھا ہے اور اس کی آئندہ سماعت ایک ہفتے بعد ہونے والی ہے۔

گذشتہ برس ملک کی خفیہ ایجنسی نے ایک رپورٹ میں الزام لگایا تھا کہ حقوق انسانی اور ماحولیاتی تنظیمیں احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں رخنے ڈال رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر جمعرات کو آنے والے عدالت کے فیصلے کو ’جمہوریت کی جیت‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں